امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے “تعمیری کردار” پر شکریہ ادا کیا ہے، جبکہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ڈار نے واشنگٹن میں روبیو سے ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے پاک امریکا تعلقات، انسدادِ دہشت گردی تعاون، علاقائی استحکام اور ایران سے متعلق جاری معاملات پر گفتگو کی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ روبیو نے ایران سے بات چیت میں مدد اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی آمادگی کو سراہا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان خود کو امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفید سفارتی پل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ڈار کے دورۂ واشنگٹن میں ایران تنازع پر خاص توجہ متوقع تھی، جس میں نازک جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ راستہ دوبارہ کھولنے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔
پاکستان بارہا کہہ چکا ہے کہ خطے میں محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات ہی قابلِ عمل راستہ ہیں۔ اسلام آباد کے کردار کو اس لیے بھی غور سے دیکھا جا رہا ہے کہ اس کے تہران کے ساتھ تعلقات، واشنگٹن کے ساتھ سکیورٹی تعاون اور سفارتی اثرورسوخ دوبارہ بڑھانے کی کوششیں اہمیت رکھتی ہیں۔
پاکستان کے لیے روبیو کے remarks ایک چھوٹی مگر قابلِ ذکر سفارتی کامیابی ہیں۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن اسلام آباد کو صرف ایک سکیورٹی پارٹنر نہیں سمجھتا، بلکہ کم از کم اس معاملے میں اسے ایسا رابطہ کار بھی دیکھتا ہے جو کشیدگی بڑھنے پر کئی فریقوں سے بات کر سکتا ہے۔
دونوں فریقوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور انسدادِ دہشت گردی تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں داعش خراسان کے خلاف کوششیں بھی شامل ہیں۔ آنے والے ہفتے یہ واضح کریں گے کہ پاکستان کا پسِ پردہ سفارتی کردار کسی عملی پیش رفت میں بدلتا ہے یا محض سفارتی اشاروں تک محدود رہتا ہے۔
