واشنگٹن / بغداد / ریاض: امریکہ اور سعودی عرب نے بدھ کے روز عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی حملے کیے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ان حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی، جن کا الزام ایران سے وابستہ ملیشیاؤں پر عائد کیا جا رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بتایا کہ حملوں میں اسلحہ گوداموں، کمانڈ سینٹرز اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سے مبینہ طور پر امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔
سعودی وزارتِ دفاع نے بھی کارروائی میں اپنی شمولیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد یہ اقدام قومی سلامتی کے تحفظ اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔
دوسری جانب ایران نے ان حملوں پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو وہ مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تہران نے آبنائے ہرمز سمیت اپنے اسٹریٹجک مفادات کے دفاع کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔
ادھر عراق میں ایران نواز گروپوں کی جانب سے بھی امریکی اور سعودی کارروائیوں کی مذمت کی گئی ہے، جبکہ خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ اور متعدد عالمی طاقتوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
