اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (FCC) نے منگل کے روز عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ "عمران خان ریلیز فورس” سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت کا پہلے جاری کیا گیا حکم تاحال مؤثر ہے اور اس پر مکمل عمل درآمد جاری رہے گا۔
تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران فریقین کے وکلا نے اپنے جوابات جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت موسمِ گرما کی عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے جاری کیے گئے حکم میں توسیع کی جائے، کیونکہ ان کے مطابق امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔ اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت کا سابقہ حکم اب بھی نافذ العمل ہے، اس لیے اسے دوبارہ جاری کرنے یا اس میں توسیع کی ضرورت نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ تمام فریق قانون کی پاسداری کریں اور کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو یا کوئی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ "عمران خان ریلیز فورس” کے نام سے کسی تنظیم یا فورس کا قیام آئین اور قانون کے منافی ہے، لہٰذا اسے روکا جائے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کسی مسلح یا غیر قانونی فورس کا قیام نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی کے لیے ایک سیاسی اور عوامی مہم ہے۔
عدالت نے فریقین کو تفصیلی جوابات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی اور واضح کیا کہ آئندہ سماعت تک عدالت کا سابقہ حکم پوری طرح نافذ العمل رہے گا۔
