پاکستانی اداکارہ اور یونیسف کی نیشنل ایمبیسیڈر صبا قمر نے ورلڈ چلڈرنز ڈے کے موقع پر نیلا رنگ اپنا کر بچوں کے حقوق کے لیے ایک مضبوط اور دل سے نکلا ہوا پیغام دیا۔ سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں وہ نیلی شرٹ پہنے نظر آئیں — اور یہی سادگی اس پیغام کو مزید اثر انگیز بنا گئی۔
اپنے خطاب میں صبا قمر نے لمبی تقریریں کرنے کے بجائے بالکل سیدھی، دل کو لگنے والی بات کی۔
انہوں نے کہا،
“ہر بچہ سیکھنے، صحت مند رہنے، محفوظ ماحول میں جینے اور اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں آواز اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔”
یہ جملہ شاید کئی لوگوں کے دلوں پر چوٹ بھی کرتا ہے کیونکہ پاکستان میں بچوں سے متعلق مسائل اب بھی انتہائی سنگین ہیں — کہیں کم عمری کی شادی، کہیں تعلیم تک محدود رسائی، کہیں عدم تحفظ، اور کہیں بچے ایسے فیصلوں سے باہر رکھے جاتے ہیں جو براہِ راست ان کی زندگیوں کو بدل دیتے ہیں۔
ورلڈ چلڈرنز ڈے کا عالمی رنگ نیلا ہے، اور صبا قمر نے اسی رنگ کو استعمال کرکے لوگوں سے اپیل کی کہ پورا پاکستان “بلو” ہو جائے۔ چاہے کپڑوں کے ذریعے، چاہے کسی پوسٹ سے، یا صرف گفتگو کو جنم دے کر — مقصد یہی ہے کہ بچوں کے حقوق کو پہلی ترجیح بنایا جائے۔
صبا قمر چونکہ یونیسف پاکستان کی سفیر ہیں، اس لیے ان کی بات محض ایک اداکارہ کی اپیل نہیں سمجھی جاتی بلکہ ایک ذمہ داری کی آواز بھی ہے۔ وہ اپنے عہدے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہی ہیں کہ بچوں کے مسائل پر عوامی گفتگو بڑھے، پالیسیاں بہتر ہوں، اور بچوں—خاص طور پر بچیوں—کی فلاح کو مرکزی حیثیت ملے۔
ایسے مہم جو دن آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن صبا قمر کا پیغام اس لیے بھی الگ محسوس ہوا کہ اس میں دکھاوے کے بجائے سنجیدگی اور سادگی تھی۔ نیلا رنگ صرف رنگ نہیں بنا — ایک یاد دہانی بن گیا کہ بچوں کے حقوق صرف نعروں میں اچھے نہیں لگتے، بلکہ ان پر عمل ہونا ضروری ہے۔
