پاکستانی اداکارہ صدیہ فیصل نے اپنی والدہ، سینئر اداکارہ صبا فیصل، کے متنازع بیانات کے بعد ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاص طور پر جنریشن زیڈ ان کی بات کو اصل تناظر میں نہیں دیکھ رہی۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب صبا فیصل نے ایک ٹی وی گفتگو میں شادی، سسرال اور بہو کے کردار سے متعلق ایسے خیالات کا اظہار کیا جنہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق صبا فیصل نے شادی شدہ زندگی میں عورت کے صبر، برداشت اور گھریلو ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے پر زور دیا تھا۔ ان کے ایک جملے، جس میں انہوں نے کہا کہ عورت کو سسرال میں سکون کے لیے بعض اوقات “بہری اور گونگی” بن کر رہنا پڑتا ہے، نے خاصا ردِعمل پیدا کیا۔ ناقدین نے اسے فرسودہ، مردانہ بالا دستی کو تقویت دینے والا اور خواتین کو خاموشی اختیار کرنے کا مشورہ قرار دیا۔
اسی ردِعمل کے بعد صدیہ فیصل سامنے آئیں اور انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی والدہ کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صدیہ نے کہا کہ لوگوں کو مکمل گفتگو سننی چاہیے، محض چند وائرل کلپس کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب صدیہ نے اپنی والدہ کا دفاع کیا ہو؛ اس سے پہلے بھی صبا فیصل کے بعض سماجی خیالات پر تنقید کے دوران صدیہ یہی کہہ چکی ہیں کہ ان کی والدہ کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔
بعد ازاں صبا فیصل نے خود بھی ایک وضاحتی ویڈیو جاری کی اور کہا کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں لیا گیا۔ انہوں نے “بہری اور گونگی” جیسے الفاظ کے استعمال پر معذرت کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کا اصل مدعا یہ تھا کہ گھریلو زندگی میں بعض معاملات کو نظرانداز کرنا، معاف کرنا اور برداشت سے کام لینا کبھی کبھی ضروری ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سوچ ان کی اپنی ازدواجی زندگی اور ایک پرانے سماجی ماحول کے تجربے سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ معاملہ محض ایک بیان تک محدود نہیں رہا۔ اس نے پاکستان میں نسلوں کے درمیان سوچ کے فرق کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ ایک طرف بزرگ نسل شادی اور خاندان کو سمجھوتے، برداشت اور روایتی اقدار کے دائرے میں دیکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف نوجوان، خصوصاً جنریشن زیڈ، احترامِ نفس، ذاتی حدود اور برابری پر مبنی تعلقات کو زیادہ اہم سمجھتی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے بھی ایک الگ رپورٹ میں نشاندہی کی کہ صبا فیصل سے جڑی حالیہ بحث دراصل شوبز انڈسٹری میں سینئر اور نوجوان نسل کے درمیان بڑھتے ہوئے نظریاتی فاصلے کی علامت بن چکی ہے۔
یوں صدیہ فیصل کا اپنی والدہ کے حق میں دیا گیا بیان صرف ایک خاندانی دفاع نہیں، بلکہ ایک بڑی سماجی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔ صدیہ کے نزدیک ان کی والدہ کی بات کو غلط سمجھا جا رہا ہے، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ الفاظ نہیں بلکہ وہ سوچ ہے جو عورت سے خاموشی، برداشت اور یک طرفہ سمجھوتے کی توقع رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بحث اب بھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ پاکستانی معاشرے میں بدلتی ہوئی خاندانی اور صنفی قدروں پر ایک اہم سوال بن چکی ہے۔
