ماہرینِ موسمیات کے مطابق ریکارڈ درجہ حرارت، خشک سالی اور بڑے پیمانے پر آگ دنیا بھر میں بڑھ سکتی ہے
موسمیاتی سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ 2026 جدید انسانی تاریخ کے خطرناک ترین موسمی سالوں میں سے ایک بن سکتا ہے کیونکہ ایک طاقتور ال نینو سسٹم کے ابھرنے کا امکان ہے، جبکہ پہلے ہی عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔
محققین کے مطابق سال کے پہلے حصے میں ہی کئی خطرناک موسمی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ آرکٹک میں سردیوں کی سمندری برف کی سطح ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، کئی ممالک میں غیر معمولی شدید گرمی کی لہریں دیکھی گئی ہیں، اور دنیا بھر میں 15 کروڑ ہیکٹر سے زائد زمین جنگلاتی آگ کی نذر ہو چکی ہے۔
امریکہ کے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر کے مطابق جولائی 2026 تک ال نینو کے 61 فیصد امکانات ہیں اور یہ سال کے آخر تک جاری رہ سکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمی نظام ہے جو بحر الکاہل کے پانیوں کے غیر معمولی گرم ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ عالمی درجہ حرارت کو بڑھا سکتا ہے اور دنیا بھر کے موسموں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کو ’غیر معمولی‘ جنگلاتی آگ کے موسم کا خدشہ
موسمیاتی تحقیق کے ادارے World Weather Attribution کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا امتزاج “غیر معمولی عالمی آگ کے سال” کا باعث بن سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس سے وابستہ موسمیاتی سائنس دان ڈینیئل سوین کے مطابق دنیا نے کبھی ایسا مضبوط ال نینو اس وقت نہیں دیکھا جب عالمی درجہ حرارت پہلے ہی اتنا زیادہ ہو۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا اور شمال مشرقی چین کے کئی علاقوں میں پہلے ہی جنگلاتی آگ کی شدت بڑھ چکی ہے۔ اگر ال نینو مزید طاقتور ہوا تو ایمیزون کے جنگلات اور آسٹریلیا جیسے علاقوں میں شدید خشک سالی اور بڑی آگ لگ سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے کئی حصے بھی آنے والے مہینوں میں زیادہ آگ کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی اصل وجہ ہے
ماہرین نے ایک حالیہ بریفنگ میں زور دیا کہ اگرچہ ال نینو موسمی شدت کو بڑھا سکتا ہے، لیکن طویل مدتی انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ہی عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور شدید قدرتی آفات کی بنیادی وجہ ہے۔
امپیریل کالج لندن کی موسمیاتی سائنس دان فریڈریکے اوٹو کے مطابق تحقیق سے بار بار یہ ثابت ہوا ہے کہ شدید موسمی واقعات پر ال نینو کے مقابلے میں موسمیاتی تبدیلی کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عالمی حدت پہلے ہی صنعتی دور سے تقریباً 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث شدید گرمی کی لہروں، طویل خشک سالی، طاقتور طوفانوں اور تباہ کن جنگلاتی آگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
آنے والے مہینوں کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش
محققین کا خیال ہے کہ اس سال کے آغاز میں ہی جنگلاتی آگ کا تیز آغاز اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ 2026 کا دوسرا حصہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ال نینو گرمیوں میں مزید شدت اختیار کر گیا تو کئی براعظموں میں ایک ساتھ شدید گرمی اور آگ کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں، جو اسے حالیہ تاریخ کے بدترین جنگلاتی آگ کے سالوں میں سے ایک بنا سکتا ہے۔
دنیا بھر کی موسمیاتی ایجنسیاں سمندری درجہ حرارت اور فضائی حالات کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں جبکہ حکومتیں ممکنہ موسمیاتی آفات کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔
