مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) کے انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کیے گئے اعلانات اور وعدوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں "انتخابی حربہ” قرار دیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، معاشی ریلیف اور عوامی فلاح سے متعلق متعدد وعدے کیے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات خطے کی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابات سے عین قبل ایسے اعلانات عوام کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر وفاقی حکومت واقعی آزاد کشمیر کے عوام کی فلاح میں سنجیدہ ہوتی تو یہ منصوبے پہلے ہی عملی شکل اختیار کر چکے ہوتے، نہ کہ انتخابی مہم کے دوران ان کا اعلان کیا جاتا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی انتخابی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے عوام کے آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق کے تحفظ کا عزم دہرایا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) پر الزام عائد کیا کہ وہ عوامی مسائل کے مستقل حل کے بجائے انتخابی وعدوں کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ادھر مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتخابی مہم عوامی خدمت اور خطے کی دیرپا ترقی کے وژن پر مبنی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہیں، جبکہ ووٹرز کی توجہ ترقیاتی وعدوں کے ساتھ ساتھ ان پر عملدرآمد کی صلاحیت پر بھی مرکوز ہے۔
