اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، یعنی ایس آئی ایف سی، نے خُوشاب میں سیفائر کے مجوزہ سوڈا ایش پلانٹ کے لیے پانی کی فراہمی کا اہم معاملہ حل کرا دیا ہے، جس کے بعد اس بڑے صنعتی منصوبے کی پیش رفت میں ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق منصوبے کے لیے موہاجر کینال سے 2.7 کیوسک پانی مختص کیا گیا ہے۔ یہ پانی سیفائر سوڈا ایش پروڈکشن پراجیکٹ کی آپریشنل ضروریات پوری کرنے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے مقامی کیمیکل صنعت کو سہارا ملے گا اور سوڈا ایش کی درآمدی ضرورت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سوڈا ایش، جسے سوڈیم کاربونیٹ بھی کہا جاتا ہے، شیشہ سازی، ڈٹرجنٹس، ٹیکسٹائل، کاغذ، کیمیکلز اور کئی دیگر صنعتوں میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں صنعتی ادارے پہلے ہی توانائی، لاگت اور درآمدی خام مال کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں مقامی سطح پر سوڈا ایش کی پیداوار میں اضافہ صنعتوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ منصوبہ سیفائر کیمیکلز پرائیویٹ لمیٹڈ سے منسلک ہے، جو سیفائر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ کمپنی نے گزشتہ سال پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بتایا تھا کہ سیفائر کیمیکلز سالانہ 2 لاکھ 20 ہزار ٹن پیداواری صلاحیت کا سوڈا ایش پلانٹ لگا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ پلانٹ مقامی خام مال کی بنیاد پر قائم کیا جائے گا اور اس کی تکمیل 2027 کے آخر تک متوقع ہے۔
پانی کی فراہمی اس منصوبے کے لیے ایک بنیادی ضرورت تھی۔ اس سطح کے کیمیکل پلانٹ کو پیداواری عمل، کولنگ، یوٹیلٹیز اور دیگر آپریشنز کے لیے مسلسل پانی درکار ہوتا ہے۔ خُوشاب میں یہی معاملہ کچھ عرصے سے زیرِ بحث تھا۔ جون 2024 میں سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ضلع خُوشاب میں سوڈا ایش پلانٹ کے لیے مہاجر برانچ کینال سے 2.5 کیوسک پانی کی منظوری دی گئی تھی، جبکہ حالیہ رپورٹس میں یہی مقدار 2.7 کیوسک بتائی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے کی ضروریات کے مطابق پانی کی مقدار کو اپ ڈیٹ یا حتمی شکل دی گئی ہے۔
سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف مقامی پیداوار بڑھے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ خُوشاب اور قریبی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ، سپلائی چین اور دیگر معاون شعبوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ صنعتی ماہرین کے نزدیک سوڈا ایش جیسے خام مال کی مقامی دستیابی سے شیشہ، ڈٹرجنٹ اور ٹیکسٹائل سمیت کئی شعبوں کی لاگت میں نسبتاً استحکام آ سکتا ہے۔
ایس آئی ایف سی کو حکومت نے 2023 میں ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر قائم کیا تھا جس کا مقصد بڑے سرمایہ کاری منصوبوں میں حائل انتظامی اور محکماتی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔ اس فورم میں وفاقی اور صوبائی نمائندگی کے ساتھ عسکری قیادت کی شمولیت بھی رکھی گئی ہے، تاکہ فیصلہ سازی کو تیز کیا جا سکے۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی صرف پانی کی فراہمی تک محدود نہیں ہوگی۔ فنانسنگ، تعمیراتی رفتار، مشینری کی درآمد یا تنصیب، توانائی کی دستیابی اور ماحولیاتی تقاضے بھی اتنے ہی اہم رہیں گے۔ کمپنی پہلے کہہ چکی ہے کہ منصوبے کی فنانسنگ آخری مراحل میں ہے اور بینکوں کا ایک کنسورشیم اس عمل میں شامل ہے۔
فی الحال پانی کی منظوری سیفائر کے سوڈا ایش پلانٹ کے لیے ایک واضح پیش رفت ہے۔ پاکستان میں بڑے صنعتی منصوبے اکثر یوٹیلٹیز، اجازت ناموں اور محکموں کے درمیان تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں، اس لیے اس رکاوٹ کا دور ہونا منصوبے کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
