بورڈو کے قریب سینٹ میڈرڈ این جالیس میں واقع ’آریان گروپ‘ کی تنصیب میں گزشتہ ہفتے لگنے والی آگ محض ایک صنعتی حادثہ نہیں تھی۔ یہ اس خطرے کی یاد دہانی تھی جو مقامی آبادی کے بالکل پہلو میں پل رہا ہے۔
اس واقعے کے بعد اٹھنے والے دھوئیں کے بادلوں نے پورے گیرونڈ ریجن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ صورتحال "قابو میں” تھی، لیکن چھ میل دور بسنے والے رہائشیوں کے لیے یہ تسلی کافی نہیں تھی۔ یہ کوئی عام کیمیکل لیکیج نہیں تھا؛ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہائی پرفارمنس راکٹ فیول اور پرانے فوجی میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے۔
سینٹ میڈرڈ این جالیس کے مکینوں کے لیے ایک ایسے پلانٹ کے قریب رہنا جہاں بیلسٹک میزائلوں کا ایندھن اور خلائی گاڑیوں کے پرزے رکھے جاتے ہوں، ہمیشہ سے ایک خاموش دباؤ کا باعث رہا ہے۔ جب سائرن بجے، تو یہ خوف حقیقت کا روپ دھار گیا۔
دو دہائیوں سے وہاں مقیم ایک رہائشی نے بتایا، "دھواں دیکھنے سے پہلے ہم نے ایک زوردار جھٹکا محسوس کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ وہاں کیا ذخیرہ کیا گیا ہے۔ آپ بس یہی دعا کرتے ہیں کہ ان کے حفاظتی پروٹوکول اتنے ہی مضبوط ہوں جتنے ان کے دعوے ہیں۔”
آریان گروپ کا موقف ہے کہ حفاظتی اقدامات نے توقع کے مطابق کام کیا۔ کمپنی نے اس واقعے کو پروپیلنٹ ویسٹ (ایندھن کے فضلے) کے جلنے کا ایک مقامی واقعہ قرار دیا ہے۔ تاہم، دھویں میں موجود کیمیائی اجزاء کے حوالے سے فوری اور شفاف ڈیٹا نہ ملنے پر قریبی قصبوں میں ایک مختصر وقت کے لیے افراتفری پھیلی رہی۔
یہ تنصیب فرانس کی سٹریٹیجک خودمختاری کا ایک اہم ستون ہے۔ یہیں سے آبدوز سے داغے جانے والے M51 بیلسٹک میزائلوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، اور یہ آریان سپیس پروگرام کا بھی اہم مرکز ہے۔ اس جگہ کی دوہری نوعیت—یعنی قومی دفاع اور کمرشل خلائی پروازیں—ایک پیچیدہ حفاظتی نظام کا تقاضا کرتی ہے۔
ماحولیاتی تنظیموں نے گنجان آباد علاقے میں ایسے خطرناک مواد کے طویل مدتی ذخیرہ کرنے پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں موجود "استعمال شدہ میزائل” اور کیمیائی ضمنی مصنوعات کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اگرچہ آگ چند گھنٹوں میں بجھا دی گئی تھی، لیکن مقامی حکام اب بھی ہوا کے معیار کے نمونوں کا تجزیہ کر رہے ہیں۔
فرانسیسی حکومت نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ لگنے کا اصل سبب کیا تھا۔ فی الحال، یہ تنصیب سخت نگرانی میں ہے۔
اس پلانٹ پر حفاظت کا مطلب صرف آگ بجھانا نہیں، بلکہ ان مواد کو کنٹرول میں رکھنا ہے جہاں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ جب تک تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آتی، چھ میل دور بسنے والے لوگ افق پر اٹھنے والے ہر دھوئیں کو تشویش کی نظر سے دیکھتے رہیں گے۔
