اسپین کی خواتین فٹ بال ٹیم آج بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے گی، جہاں ایک فتح ٹیم کو ورلڈ کپ کوالیفکیشن کے اگلے مرحلے اور فرانس کے خلاف متوقع بڑے مقابلے کے قریب لے جائے گی۔ یہ میچ محض تین پوائنٹس کا کھیل نہیں، بلکہ اسپین کے لیے اپنی ساکھ بحال کرنے کا آخری امتحان ہے۔
لا روخا (La Roja) کے لیے صورتحال واضح ہے۔ ٹیم کے اندرونی تنازعات اور تناؤ سے بھرپور سال کے بعد، اب سب کی نظریں میدان پر ہیں۔ ہیڈ کوچ مونٹسے ٹومے نے گزشتہ چند روز کھلاڑیوں کی توجہ فرانس کے نام سے پیدا ہونے والے دباؤ سے ہٹانے اور بیلجیئم کے خلاف حکمت عملی پر مرکوز رکھنے پر صرف کیے ہیں۔
بیلجیئم کی ٹیم کو آسان سمجھنا حماقت ہوگی۔ وہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر ایک مضبوط دفاعی دیوار کھڑی کرنے کے لیے جانی جاتی ہے، جو اسپین جیسی پوزیشن پر حاوی رہنے والی ٹیموں کو اکثر مشکلات میں ڈال دیتی ہے۔ اگر اسپین نے ابتدائی لمحات میں گول نہ کیا، تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں پر نفسیاتی دباؤ بڑھتا جائے گا۔
کپتان آیتانہ بونماتی نے پیر کے روز پریس بریفنگ میں کہا، "ہم بریکٹ کے حساب کتاب میں نہیں پڑے، ہماری توجہ صرف سامنے والے نوے منٹ پر ہے۔ اگر ہم یہاں نہیں جیتتے، تو باقی سب کچھ بے معنی ہے۔”
اسپین کی ٹیم کے لیے یہ ورلڈ کپ سائیکل صرف ٹورنامنٹ جیتنے کا نام نہیں، بلکہ یہ فیڈریشن کے تنازعات اور کھلاڑیوں کی ہڑتالوں سے داغدار ہونے والے سال کے بعد یورپی فٹ بال کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر اپنی شناخت بحال کرنے کا موقع ہے۔ آج کا میچ ڈرا ہونے یا ہارنے کی صورت میں اسپین کو پلے آف کے پیچیدہ راستے سے گزرنا پڑے گا، جس سے ان کا اپنے مستقبل پر اختیار ختم ہو جائے گا۔
تکنیکی اعتبار سے اسپین اپنی روایتی ہائی پریس حکمت عملی پر انحصار کرے گا، جس کا مقصد بیلجیئم کے مڈ فیلڈ کو کھیل شروع کرنے سے پہلے ہی دباؤ میں لانا ہے۔ اگرچہ کچھ اہم کھلاڑی معمولی انجریز کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں، تاہم اسپین کے پاس موجود بینچ کی طاقت اب بھی براعظم میں سب سے مضبوط سمجھی جاتی ہے۔
صورتحال سادہ ہے: اسپین کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ فیورٹ ہونے کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ بیلجیئم کو شکست دے کر ہی وہ فرانس کے خلاف اس ‘ٹائٹینک’ مقابلے تک پہنچ سکیں گے جو ورلڈ کپ کا راستہ ہموار کرے گا۔
