نومبر 25، 2025
بھارتی سپریم کورٹ نے لیفٹیننٹ سموئیل کمالیسن کی برطرفی کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ انہوں نے گوردوارے میں داخلے کے حکم کو ماننے سے انکار کرکے سنگین بد نظمی کا مظاہرہ کیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ فوج میں ایسی روش کی کوئی گنجائش نہیں۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ کمالیسن ایک قابل افسر ہوسکتے ہیں، لیکن یونٹ کی روایات اور اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا رویہ انہیں فوج کے لیے “ناموزوں” بنا دیتا ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ فوج میں نظم و ضبط اور اجتماعی ہم آہنگی بنیادی اصول ہیں۔
کمالیسن، جو 3rd کیولری رجمنٹ میں تعینات تھے، نے مؤقف اختیار کیا کہ گوردوارے میں داخلہ ان کے مسیحی عقیدے کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی بنیادوں پر وہ اس حکم پر عمل نہیں کرسکتے تھے۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ذاتی عقیدہ فوجی احکامات سے بالا تر نہیں ہوسکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ فوج تمام مذاہب کے احترام اور سخت ڈسپلن پر چلتی ہے، اور کسی بھی افسر کو اجتماعی سرگرمیوں سے انکار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
