واشنگٹن — امریکا نے ایران کی چابہار بندرگاہ پر عائد پابندیوں سے بھارت کو دی گئی خصوصی چھوٹ واپس لے لی ہے، جس کے بعد اربوں ڈالر کی بھارتی سرمایہ کاری اور خطے میں طویل مدتی منصوبے غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہوگئے ہیں۔ یہ خبر بین الاقوامی میڈیا نے دی ہے۔
چابہار بندرگاہ کو خطے میں تجارتی روابط اور افغانستان و وسطی ایشیا تک بھارت کی رسائی کے لیے کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ بھارت نے 2016 میں ایران سے معاہدے کے بعد بندرگاہ اور ریل لنک منصوبے پر بڑی سرمایہ کاری کی تاکہ پاکستان کے راستے پر انحصار کم کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی چھوٹ ختم ہونے سے منصوبہ تعطل کا شکار ہو سکتا ہے اور بھارت کو دوبارہ پاکستان کے راستے یا دیگر مہنگے ذرائع پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی کمپنیوں کے لیے مالیاتی لین دین اور ترسیلات بھی مشکل ہوجائیں گی۔
ماضی میں امریکا نے افغانستان کی تعمیرِ نو اور خطے میں استحکام کے لیے چابہار منصوبے کو اہم قرار دے کر ایران پر عائد بعض پابندیوں سے بھارت کو استثنیٰ دیا تھا۔ تاہم اب امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی پالیسیوں، روس کے ساتھ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ میں سرگرمیوں کی وجہ سے مزید رعایت ممکن نہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی اقدام کو "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ چابہار ایک علاقائی ترقیاتی منصوبہ ہے جسے سیاسی دباؤ کی نذر کرنا خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ بھارت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر متبادل حکمتِ عملی اپنائے گا۔
بھارت کی جانب سے تاحال اس پیش رفت پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خطے میں رابطے کے خواب کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
