واشنگٹن : سابق امریکی مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے قطر پر حملے کے بعد سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو محسوس ہوا کہ اسرائیل "قابو سے باہر” ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام سکسٹی منٹس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وٹکوف نے بتایا کہ انہیں اسرائیل کے قطر میں حماس پر حملے کے منصوبے کا کوئی علم نہیں تھا۔
ان کے مطابق "جب اگلی صبح حملے کی خبر ملی تو صدر ٹرمپ نے مجھے فون کیا،” انہوں نے کہا، "میں اور جیرڈ کشنر — جو صدر کے داماد بھی ہیں — خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے تھے۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایسا کوئی آپریشن جاری ہے۔”
وٹکوف نے کہا کہ اس حملے کے بعد قطر کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہوگیا اور حماس زیرِ زمین چلی گئی، جس کے بعد رابطے انتہائی مشکل ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اس واقعے کے بعد امریکی سفارتی کوششوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا اور ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اسرائیل کے خودسرانہ اقدامات پر تشویش میں اضافہ ہوا۔
