خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں جمعے کے روز دو دھماکوں کے نتیجے میں ایس پی آپریشنز اسد زبیر سمیت تین پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جب کہ تین زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ غلمنہ چیک پوسٹ کے قریب ہوا جہاں ایک بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔ اس دھماکے میں قریبی کمرہ تباہ ہوگیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس واقعے کے بعد جب پولیس ٹیم جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے پہنچی تو دوسرا دھماکہ درہ بند کے علاقے میں ہوا، جس نے ایس پی آپریشنز کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس دھماکے میں ایس پی اسد زبیر اور دو اہلکار شہید جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خان زیب محمند نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال ہنگو منتقل کردیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ اور کمانڈوز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کا اظہار افسوس
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہنگو میں پولیس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایس پی اسد زبیر اور دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ
“ایس پی اسد زبیر اور ان کے ساتھیوں نے وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا، ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔”
دہشت گردی میں اضافہ
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان، دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی رپورٹ کے مطابق اگست 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جن میں 194 افراد جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 96 فیصد واقعات خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے۔
