انکراچ، الاسکا | 15 اگست 2025 – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان الاسکا میں ہونے والی تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات میں یوکرین جنگ ختم کرنے پر کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔
ٹرمپ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بات چیت "بہت مثبت” رہی لیکن سب سے اہم نکتہ اب بھی طے نہیں پایا۔ انہوں نے کہا: "کئی معاملات پر اتفاق ہوا ہے… لیکن جب تک معاہدہ مکمل نہ ہو، اسے معاہدہ نہیں کہا جا سکتا۔”
پیوٹن نے امید ظاہر کی کہ یہ گفتگو یوکرین جنگ کے حل اور امریکہ، روس تعلقات کی بحالی میں سنگ میل ثابت ہوگی۔ انہوں نے یوکرین اور یورپی اتحادیوں کو خبردار کیا کہ وہ اس عمل کو سبوتاژ نہ کریں۔
تاہم جنگ بندی یا فوری فائر بندی کے حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ یوکرینی اپوزیشن رہنما الیگزئی ہونچارینکو نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا: "ایسا لگتا ہے کہ پیوٹن نے صرف وقت حاصل کر لیا ہے، کوئی سیز فائر یا کشیدگی میں کمی طے نہیں پائی۔”
یورپی رہنماؤں نے بھی شکوک کا اظہار کیا۔ چیک وزیر خارجہ نے کہا: "اگر پیوٹن امن میں سنجیدہ ہوتے تو وہ آج یوکرین پر حملے نہ کرتے۔”
یہ ملاقات اس لحاظ سے اہم تھی کہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد ٹرمپ اور پیوٹن کی یہ پہلی براہِ راست ملاقات تھی۔ الاسکا ایئر بیس پر سرخ قالین کے ساتھ پیوٹن کا استقبال کیا گیا، لیکن اسی دوران یوکرین میں بمباری اور ڈرون حملے جاری رہے۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور نیٹو اتحادیوں کو ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ مذاکرات کی بھی بات کی، جس پر پیوٹن نے کہا: "اگلی بار ماسکو میں۔”
