MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

ذیابیطس ٹائپ ٹو، 90 فیصد افراد متاثر ہوتے ہیں

Last updated: فروری 27, 2026 1:40 صبح
Neha Ashraf
Share
SHARE

ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والی ایسی طبی حالت ہے، جو ہر سال لاکھوں افراد کی جان لے لیتی ہے، اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا۔

‎ذیابطیس عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ سے زائد افراد اس کا شکار ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، یہ تعداد 40 سال پہلے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔

‎ذیابطیس کی وجہ کیا ہے؟

‎جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو شکر (گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے بعد لبلبے (پینکریاز) میں پیدا ہونے والا ہارمون، انسولین ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لیے اس شکر کو جذب کریں۔

‎ذیابطیس تب لاحق ہوتا ہے، جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی، اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

‎ذیابیطس کی اقسام:

‎ذیابطیس کی کئی اقسام ہیں، تاہم دو طرح کی ذیابطیس زیادہ عام ہے۔ ٹائپ ون ذیابطیس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

‎سائنسدان یہ تو نہیں جانتے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید ایسا جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی وائرل انفیکشن کی وجہ سے لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہو جاتے ہیں۔ ذیابطیس کے مریضوں میں سے 10فیصد ٹائپ ون کا شکار ہیں۔

‎ذیابیطس ٹائپ 2 اس مرض کی سب سے عام قسم ہے اور90 فیصد افراد کو اسی کا سامنا ہوتا ہے۔

‎ٹائپ 2 ذیابطیس میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔

‎ذیابیطس ٹائپ 2 لاحق ہونے کی صورت میں کچھ عرصے بعد انسولین بنانے والے نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور خلیات تباہ ہونے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کی انسولین بنانے کی صلاحیت مزید کم ہوجاتی ہے۔

‎ٹائپ ٹو کا مرض عام طور پر 40 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو لاحق ہوتا ہے جس کے علاج کے لیے غذا اور ورزش وغیرہ پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے، تاہم موجودہ عہد کے ناقص طرز زندگی کے نتیجے میں یہ نوجوانوں کو بھی اپنا شکار بنانے لگا ہے۔

‎کچھ حاملہ خواتین کو دورانِ زچگی ذیابطیس ہو جاتا ہے، جب ان کا جسم، ان کے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا۔

‎مختلف مطالعوں کے اندازوں کے مطابق چھ سے 16 فیصد خواتین کو دورانِ حمل ذیابطیس ہو جاتا ہے۔ انھیں ایسے میں غذا اور ورزش کے ذریعے شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، تاکہ اسے ٹائپ ٹو ذیابطیس میں بدلنے سے روکا جا سکے۔

‎ذیابطیس ٹائپ ٹو کیوں ہوتا ہے؟

‎ذیابطیس کی تمام اقسام دو طرح کے عوامل یکجا ہونے سے پید اہوتی ہیں؛

‎1) وراثت، 2) ماحولیاتی اثرات

‎اگر آپ کے والدین بہن بھائیوں یا خون کے رشتوں میں ذیابطیس کا سلسلہ موجودہے تو آپ کے لیے ذیابطیس کا خطرہ زیادہ ہے۔ تاہم یاد رکھنا چاہئے کہ جنوبی ایشیا کے افراد میں (جن میں پاکستان بھی شامل ہے) ذیابطیس قسم دوم کا خطرہ ویسے ہی زیادہ ہے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں اگر ہمارے خون کے رشتوں میں ذیابطیس کا سلسلہ پہلے سے موجود نہ ہو، تب بھی ہمارے لیے ذیابطیس ٹائپ ٹو ہونے کا خطرہ دوسری اقوام کی نسبت زیادہ ہے۔

‎ذیابطیس ٹائپ ٹو کی وجوہات کو سمجھانے کی غرض سے، ہم اسے دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

‎ایک وہ وجوہات جن پر آپ کا اختیار نہیں ہے، مثال کے طور پر وراثت، عمر 45 برس سے زیادہ ہونا، بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا، خون میں چربی کے تناسب کی بعض خرابیاں وغیرہ۔

‎ذیابطیس ٹائپ ٹو کی علامات:

‎ذیابطیس ٹائپ ٹو کا شکار افراد میں اس کی علامات کی نشاندہی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جب کسی میں اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تو درحقیقت خدشہ ہوتا ہے کہ اس سے کئی برس پہلے وہ شخص اس کا شکار ہوچکا ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہے کہ ذیابیطس کو پنپنے سے روکنے کا عمل زندگی میں بہت پہلے شروع کر دیا جانا چاہیے۔

‎ذیابطیس ٹائپ ٹو کی ابتدائی علامات میں بہت زیادہ پیاس کا محسوس ہونا، منہ کی خشکی، زیادہ بھوک لگنا اور بار بار پیشاب کی حاجت ہونا (اکثر ہر گھنٹے) اور وزن میں غیرمعمولی اضافہ یا کمی شامل ہے۔ بعدازاں، جب متاثرہ شخص کا بلڈ شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے تو اسے سردرد، نظر میں دھندلے پن اور تھکاوٹ کی اضافی علامات کی شکایت ہوسکتی ہے۔

‎ذیابطیس ٹائپ ٹو کی تشخیص:

‎بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے گزشتہ 2سے 3ماہ کا اوسط بلڈ شوگر لیول جان کر ڈاکٹر اس کی تشخیص کرتا ہے۔ مزید برآں، ڈاکٹر متاثرہ شخص کو رینڈم بلڈ گلوکوز ٹیسٹ کی بھی ہدایت کرسکتا ہے، جس سے اس کے موجودہ شوگر لیول کا پتہ چلتا ہے۔

‎علاج:

‎ڈاکٹر متاثرہ شخص کی طبیعت اور بلڈ شوگر لیول اور ہسٹری کا جائزہ لینے کے بعد ابتدا میں ہی گولیوں اور دیگر ادویات کے ساتھ انسولین تجویز کرسکتا ہے۔ اس طرح کا علاج ان افراد کے لیے مؤثر رہتا ہے، جن میں Beta-cell failureکی تشخیص ہوتی ہے۔

‎اس کا مطلب یہ ہے کہ ہائی بلڈ شوگر کی صورت میں لبلبے انسولین بنانا ترک کردیتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں انسولین کا روزانہ استعمال ناگزیر ہوجاتا ہے۔

‎احتیاط:

‎ذیابطیس ٹائپ ٹو سے متعلق حیران کن بات یہ ہے کہ آپ اس سے بچ سکتے ہیں اور درج ذیل مشوروں پر عمل کرکے آپ اس کے خطرات کم کرسکتے ہیں:

‎صحت مند غذا ئیں لیں، روزانہ کم از کم آدھے گھنٹے تک ورزش کریں، وزن کی صحت مند حد کو برقرار رکھیں وغیرہ۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article پلاسٹک کے ذرات سے مردوں میں کینسر کی ایک قسم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، تحقیق
Next Article لاہور: امراض قلب کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
فلو کی تمام اقسام سے تحفظ دینے والا نیزل اسپرے تیار
Health
مارچ 23, 2026
پانی میں موجود نمک خاموشی سے کروڑوں افراد کو ہائی بلڈ پریشر کا مریض بنانے لگا
Health
مارچ 23, 2026
وہ آسان عادت جو آپ کو کینسر کی 13 مختلف اقسام سے بچا سکتی ہے
Health
مارچ 23, 2026
کم چکنائی والی ویگن غذائیں ذیابیطیس کے مریضوں کے لئے مفید، تحقیق
Health
مارچ 23, 2026
آنتوں کا کینسر 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر سے اموات کی بڑی وجہ
Health
مارچ 22, 2026
الٹرا پروسیسڈ فوڈز کا زیادہ استعمال ہارٹ اٹیک کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے، تحقیق
Health
مارچ 22, 2026

You Might Also Like

Health

خسرہ عالمی خطرہ بن گیا، دنیا بھر میں ایک بار پھر وبا کیوں پھیل رہی ہے؟

By Neha Ashraf
Health

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا نیا ریکارڈ، جدید کیمروں اور مشین سے 15 کامیاب آپریشنز

By Neha Ashraf
Health

بہت زیادہ الٹرا پروسیسڈ غذا کھانے سے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ 41 فیصد بڑھ سکتا ہے

By Fatima Nadeem
Health

دو فروری سے ملک بھر میں پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز: عائشہ رضا فاروق

By Neha Ashraf
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?