جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ خوراک کے موقع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں ماہرین نے پاکستان میں خوراک کے بحران، غذائی عادات میں عدم توازن اور زرعی پالیسیوں کی ناکامی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو زرعی ملک کہا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے آج بھی کئی اہم اجناس ہمیں بیرونِ ملک سے درآمد کرنا پڑتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری پیداواری صلاحیت یا تو ضروریات کے مطابق نہیں ہے یا پھر ناقص منصوبہ بندی اور غلط پالیسیوں کے باعث پیداوار منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے محدود رقبے پر زیادہ اور معیاری پیداوار حاصل کر رہے ہیں، جس سے وہ نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ برآمدات کے ذریعے معیشت کو مستحکم بناتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بھی دقیانوسی زرعی طریقے چھوڑ کر جدید ٹیکنالوجی اپنانی چاہیے تاکہ زرعی زمین کا مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد غفران سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان شدید غذائی بحران سے دوچار ہے اور غیر صحت مند خوراکی رجحانات صحتِ عامہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی عوام فی کس سالانہ 22 سے 24 کلوگرام چکنائی (Fat) استعمال کرتے ہیں، جو دنیا بھر میں بلند ترین سطح پر ہے۔ ان کے مطابق چکنائی، چینی، نمک اور ٹرانس فیٹس کا زیادہ استعمال دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں میں اضافہ کر رہا ہے، جو ملکی معیشت پر بھی بوجھ ہے۔
فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے فوڈ سسٹمز اور ماحولیاتی ماہر اقتصادیات ڈاکٹر پیدرو آندریس گارزون ڈیلواکس نے کہا کہ پاکستان تیزی سے شہری ملک بنتا جا رہا ہے، دیہی آبادی میں ایک فیصد جبکہ شہری آبادی میں 2.35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوراک کا شعبہ معیشت پر کثیر الجہتی اثرات رکھتا ہے اور عوامی و نجی مفادات کے امتزاج سے ترقی کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
صدرِ شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عبد الحق نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں فصل کی کٹائی کے بعد نقصانات 10 فیصد سے کم ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 30 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، جو بہتر انفراسٹرکچر کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برازیل 70 سے 80 فیصد پھلوں کو جوس میں پروسیس کرتا ہے، جب کہ پاکستان صرف 3 فیصد پھلوں کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔
رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ورلڈ فوڈ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوراک کی تیاری، حفاظت اور غذائیت میں بہتری ہی ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے۔
سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر نصرت جبیں سمیت دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ ماہرین نے اتفاق کیا کہ پاکستان میں خوراک کے ضیاع کو کم کرنے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور غذائی عادات میں توازن پیدا کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ قوم کو صحت مند اور غذائیت سے بھرپور مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
