شارلوٹس ویل — یونیورسٹی آف ورجینیا کے محققین نے ہائی بلڈ پریشر (ہائیپر ٹینشن) کے علاج میں ایک انقلابی دریافت کی ہے جس سے روایتی ادویات کے مضر اثرات سے نجات مل سکتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتا ہے، اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ دل کی خرابی، گردے کی بیماری اور فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ اگرچہ موجودہ ادویات جیسے کہ کیلشیم چینل بلاکرز بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتے ہیں، لیکن پورے جسم میں کیلشیم کے بہاؤ کو روکنے کی وجہ سے اکثر غنودگی، تھکن اور پیروں میں سوجن جیسے منفی اثرات سامنے آتے ہیں۔
ورجینیا یونیورسٹی کے ماہرین نے جدید لیبارٹری امیجنگ کے ذریعے شریانوں کے پٹھوں کے خلیات کے اندر "نینو ڈومینز” (Nanodomains) نامی انتہائی چھوٹے خلیاتی کنٹرول سینٹرز دریافت کیے ہیں جو کیلشیم سگنلز کو منظم کرتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں یہ نظام خراب ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شریانیں سکیڑنے والے سگنلز حاوی ہو جاتے ہیں اور بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس دریافت کی مدد سے اب ایسی ہدف شدہ (targeted) ادویات تیار کی جا سکیں گی جو پورے جسم کو متاثر کیے بغیر براہ راست ان نینو ڈومینز کو نشانہ بنائیں گی، جس سے مریضوں کو بغیر کسی مضر اثر کے مؤثر علاج کی نئی امید مل گئی ہے۔
