دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں — چین اور امریکہ — پیر کے روز لندن میں اہم تجارتی مذاکرات کے دوسرے دور میں داخل ہو گئیں۔ اس سے قبل پہلا دور جنیوا میں ہوا تھا، جس میں عارضی طور پر ٹیرف میں کمی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
یہ مذاکرات لینکاسٹر ہاؤس میں ہو رہے ہیں، جہاں چینی وفد کی قیادت نائب وزیراعظم ہی لی فینگ کر رہے ہیں، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اور ٹریڈ ریپریزنٹیٹو جیمیسن گریئر کر رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ ملاقات “بہت اچھی” ہوگی۔
چینی سرکاری خبررساں ادارے شنہوا کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے، جو حال ہی میں ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد ممکن ہوا۔
نایاب معدنیات اور ٹیکنالوجی تک رسائی پر اختلافات
مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع نایاب معدنیات (Rare Earths) کی برآمدات پر ہے۔ یہ معدنیات برقی گاڑیوں، دفاعی ساز و سامان اور جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں۔ اپریل میں امریکہ کے "Liberation Day” ٹیرف کے بعد سے چین کی جانب سے ان معدنیات کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
امریکہ ان برآمدات کی بحالی چاہتا ہے، جبکہ چین امریکی امیگریشن پالیسیوں، مائیکروچپز تک رسائی، اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
تجارتی ماہر کیتھلین بروکس کے مطابق، “چین چاہتا ہے کہ امریکہ طلبہ پر امیگریشن کی پابندیاں ختم کرے اور چینی کمپنیوں کو مارکیٹ تک رسائی دے۔”
ٹیرف کی جنگ اور اعداد و شمار
اپریل میں امریکہ نے چینی مصنوعات پر 145 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا، جس کے جواب میں چین نے 125 فیصد جوابی ٹیرف لگائے۔ بعد ازاں جنیوا میں دونوں نے 90 دن کے لیے ٹیرف میں نرمی پر اتفاق کیا، مگر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
چین کے نئے تجارتی اعداد و شمار سے بھی کشیدگی عیاں ہے۔ مئی میں امریکہ کو برآمدات میں 12.7 فیصد کمی دیکھی گئی — اپریل کے $33 ارب کے مقابلے میں یہ گھٹ کر $28.8 ارب ہو گئیں۔
چین کی متبادل سفارت کاری
ان مذاکرات کے ساتھ ساتھ چین نے جاپان، جنوبی کوریا اور کینیڈا کے ساتھ بھی تجارتی بات چیت شروع کی ہے۔ بیجنگ یورپی یونین کے ساتھ "گرین چینل” کھولنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے تاکہ نایاب معدنیات کی برآمدات میں آسانی پیدا کی جا سکے۔ جولائی میں یورپی یونین اور چین کے تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک اہم سربراہی اجلاس بھی متوقع ہے۔
برطانیہ، اگرچہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے، لیکن اس نے ان کا خیرمقدم کیا ہے۔ برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا: “ہم آزاد تجارت کے حامی ہیں، اور تجارتی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔”
نتیجہ؟
لندن میں ہونے والے مذاکرات مستقبل کی تجارتی پالیسی کا تعین کر سکتے ہیں۔ کیا یہ کشیدگی میں کمی کا سبب بنیں گے یا ایک نئے تصادم کا آغاز؟ دنیا کی نظریں اس وقت لندن پر جمی ہوئی ہیں۔
