واشنگٹن، 22 جولائی 2026: امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پاکستان کی جانب سے معاشی اصلاحات کے نفاذ، معیشت کو مستحکم بنانے کی کوششوں اور عالمی سرمایہ مارکیٹوں (Capital Markets) میں دوبارہ واپسی کی تیاریوں کا خیرمقدم کیا۔ یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران کہی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے پاکستان کی جانب سے معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Consolidation) اور ساختی اصلاحات (Structural Reforms) کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں نے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی اصلاحاتی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا چاہیے تاکہ طویل المدتی معاشی ترقی، خود انحصاری اور مستقبل میں مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت مزید بہتر ہو سکے۔ انہوں نے عالمی سرمایہ مارکیٹوں میں پاکستان کی دوبارہ واپسی کی کوششوں کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت مختلف معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے مالیاتی خسارہ کم کرنے، ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، سرکاری مالیات کو مستحکم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جنہیں عالمی مالیاتی اداروں نے مثبت قرار دیا ہے۔
اگرچہ امریکی محکمہ خزانہ کے سرکاری بیان میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم بعد ازاں امریکی حکام نے تصدیق کی کہ پاکستان نے ملاقات کے دوران امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسلٹی (Exchange Stabilization Facility) کی درخواست بھی کی۔ اگر اس درخواست کی منظوری دی جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہونے، پاکستانی روپے کو استحکام ملنے اور ہنگامی بیرونی مالی معاونت پر انحصار کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان کی معیشت کو حالیہ برسوں میں بیرونی مالی ضروریات، توانائی کی درآمدات کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ اس کے باوجود حکومت معاشی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور عالمی قرضہ مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ کا یہ مثبت بیان پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے۔ ان کے نزدیک واشنگٹن کی جانب سے اس نوعیت کی حمایت پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان ساکھ کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے، جس سے ملک میں پائیدار معاشی ترقی اور مالیاتی استحکام کے امکانات بڑھیں گے۔
