واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران سے ایک متحدہ جواب چاہتا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ تہران کے اس مؤقف کا انتظار کر رہی ہے جو ایک امن تجویز پر دیا جانا ہے، جس کا مقصد موجودہ جنگ بندی کو مزید وسیع معاہدے میں تبدیل کرنا ہے۔ پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے ایک مشترکہ جواب چاہتے ہیں، نہ کہ ملک کے مختلف طاقت مراکز کی جانب سے ملے جلے اشارے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن تہران پر سفارتی دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے بنیادی مطالبات میں کسی تبدیلی سے انکار کر رہا ہے۔ لیویٹ نے پہلے بریفنگز میں کہا تھا کہ انتظامیہ کی ریڈ لائنز میں ایران میں یورینیم کی افزودگی کا خاتمہ اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہے، جبکہ ممکنہ مذاکرات کے ذریعے حل پر بات چیت جاری ہے۔
وسیع پس منظر اب بھی کشیدہ ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کی باضابطہ تجویز کے انتظار میں جنگ بندی میں توسیع کی ہے، تاہم اس بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ آیا تہران کی قیادت داخلی اختلافات اور خلیج میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک واضح اور متحد مذاکراتی مؤقف پیش کر سکتی ہے یا نہیں۔
