واشنگٹن: امریکہ نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کینیڈا کی جانب سے امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور الکوحل کے ساتھ مبینہ طور پر امتیازی سلوک کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ ٹیرف 1930 کے ٹیرف ایکٹ کی سیکشن 338 کے تحت نافذ کیے، جو تقریباً ایک صدی بعد پہلی مرتبہ استعمال کی جا رہی ہے۔ نئے محصولات کا اطلاق شراب، فرنیچر، کھیلوں کے سامان، سیمنٹ اور دیگر متعدد مصنوعات پر ہوگا، جبکہ توانائی، پوٹاش، مچھلی اور بعض اہم معدنیات کو اس اقدام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ٹیرف 30 دن بعد نافذ العمل ہوں گے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت تجارتی تنازع کے حل اور دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد تجاویز دے چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی محصولات سے دونوں ممالک کے کاروبار متاثر ہوں گے اور اس کے اخراجات بالآخر امریکی صارفین کو بھی برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق یہ اقدام امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتا ہے، سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور شمالی امریکہ کی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
