لاہور: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ساتویں مون سون اسپیل کے بعد پنجاب میں شدید سیلاب کی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے جبکہ بڑے ڈیم بھی بھرنے کے قریب ہیں، جس سے مزید تباہی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
قصور، بہاولنگر اور نارووال کے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں، حفاظتی بند ٹوٹ گئے، کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں جبکہ ایمرجنسی کیمپوں میں خوراک، خیمے اور کمبل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کے ہریکے ہیڈ ورکس سے پانی کے مزید اخراج کی صورت میں دریائی علاقوں میں سیلابی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 164 ہو گئی ہے، جن میں کم از کم 70 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ مون سون حالیہ برسوں کے سب سے ہلاکت خیز سیزن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو صوبہ برسوں کے بدترین سیلاب کا سامنا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب لاہور سمیت مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے پوٹھوہار، ڈیرہ
