برطانیہ میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ لندن میں پاکستانی سفارتی مشن کی قیادت کرن والے اس تجربہ کار سفارت کار کی رخصتی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسلام آباد اپنے اہم سفارتی تعلقات میں توازن لانے کے لیے کوشاں ہے۔
ڈاکٹر فیصل کی رخصتی کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان کے جانشین کے تقرر کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم، دفتر خارجہ کی جانب سے تاحال کسی نئے نام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر فیصل نے لندن میں اپنی ذمہ داریاں 2020 کے اوائل میں سنبھالی تھیں، جب دنیا بھر میں کورونا کی وبا اپنے عروج پر تھی۔ ان کا دورِ سفارت پاکستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے مسائل کے گرد گھومتا رہا۔ اس سے قبل، وہ وزارت خارجہ کے ترجمان کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں وہ اپنے ہفتہ وار پریس بریفنگز کے ذریعے میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک معروف چہرہ رہے۔
لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کا عہدہ ملک کے اہم ترین سفارتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مشن نہ صرف برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی و سیکیورٹی مذاکرات کا مرکز ہے، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مقیم پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے لیے قونصلر خدمات کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔
اسلام آباد کے لیے اس نشست پر نیا تقرر ایک اہم فیصلہ ہوگا۔ نئے ہائی کمشنر کو نہ صرف برطانیہ کے ساتھ تجارتی حجم بڑھانے کے چیلنج کا سامنا ہوگا، بلکہ انہیں دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے مسائل اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی ذمہ داری بھی نبھانا ہوگی۔
ڈاکٹر فیصل کی رخصتی کے ساتھ ہی اب سفارتی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ اگلا ہائی کمشنر کون ہوگا۔ فی الحال ہائی کمیشن کا کام معمول کے مطابق جاری ہے، لیکن یہ تبدیلی اسلام آباد کی جانب سے اہم مغربی دارالحکومتوں میں اپنی سفارتی ٹیم کو نئی تشکیل دینے کی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
