امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف عام آدمی کی کمر توڑ دے گا بلکہ ملکی صنعت کو بھی مکمل طور پر جام کر دے گا۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کا اثر صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے ایک کلو سبزی کی قیمت سے لے کر ٹیکسٹائل ملوں کی پیداواری لاگت تک ہر چیز براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ حافظ نعیم کا کہنا ہے کہ حکومت عالمی مالیاتی اداروں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے عوام کا خون نچوڑ رہی ہے، جبکہ اپنے شاہانہ اخراجات اور مراعات میں ایک روپے کی کمی کرنے کو تیار نہیں۔ "یہ گورننس نہیں بلکہ غریب کے خلاف معاشی دہشت گردی ہے،” حافظ نعیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی منڈی کے بہاؤ کا فائدہ عوام کو دینے کے بجائے حکومت کا سارا زور پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے ذریعے ریونیو اکٹھا کرنے پر ہے، جبکہ بااثر جاگیرداروں اور بڑے کارپوریٹ سیکٹر کو اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر نے قیمتوں میں اضافے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا متوسط طبقہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور لوگ خطِ غربت سے نیچے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول، موجودہ معاشی پالیسیاں اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت سخت اہداف پورے کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں پٹرولیم لیوی حکومت کے لیے آمدن کا سب سے آسان ذریعہ بن چکی ہے۔ لیکن فیصل آباد کے چھوٹے صنعتکار سے لے کر کراچی کے ڈیلیوری بوائے تک، یہ بوجھ اب سکت سے باہر ہے۔ بجلی کے نرخ پہلے ہی ریکارڈ سطح پر ہیں، اور پٹرول کی قیمت نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ صنعتی شعبے پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ مہنگی بجلی اور مہنگے ایندھن کی وجہ سے پاکستانی برآمدات عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں۔ جب کارخانے بند ہوں گے تو لاکھوں مزدور بے روزگار ہوں گے۔ "آپ ملک کو صنعتوں کا قبرستان بنا رہے ہیں،” انہوں نے سخت لہجے میں کہا۔ حافظ نعیم الرحمان نے آنے والے دنوں میں احتجاج کی کال دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ‘حق دو عوام کو’ تحریک کا دائرہ کار گلی محلوں سے نکل کر ملک کی اہم شاہراہوں تک پھیل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اشرافیہ عیاشی کرے اور عوام فاقے کاٹیں، یہ اب مزید نہیں چلے گا۔” امیر جماعت اسلامی کے اس بیان نے ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی تحریک کے واضح اشارے دے دیے ہیں۔
