وزیراعلیٰ بلوچستان میر صر فراز بگٹی نے اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد تصدیق کی ہے کہ ایک لڑکا اور لڑکی کے بہیمانہ قتل کے واقعے پر ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند مسلح افراد لڑکے اور لڑکی کو صحرائی علاقے میں لے جا کر گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔ دونوں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، لیکن رپورٹ کے مطابق وہ عیدالاضحیٰ سے کچھ روز قبل کسی تعلق کی بنیاد پر قتل کیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور ایک مرکزی ملزم کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
متاثرہ خاندان خاموش، ریاست نے مقدمہ خود درج کیا
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کراچی پریس کلب میں بتایا کہ متاثرہ جوڑے کے خاندانوں نے کوئی درخواست یا شکایت نہیں دی، جس پر ریاست نے خود مقدمہ درج کیا۔
انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور نادرا سے مدد لے کر دیگر افراد کو بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔ گرفتاریاں جاری ہیں اور جو بھی اس جرم میں ملوث ہوگا، چاہے وہ قاتل ہو یا جرگے کے ذریعے سہولت کار—قانون سب کے خلاف یکساں کارروائی کرے گا۔
سیاسی و سماجی رہنماؤں کا ردعمل
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس واقعے کو "درندگی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین و اسلام دونوں کی خلاف ورزی ہے کیونکہ عورت کو اپنے مرضی سے شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے اسے ناقابلِ معافی جرم قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قبائلی رسم و رواج کے نام پر ایسے وحشیانہ مظالم کو بند کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ ظلم اکثر اپنوں کے ہاتھوں ہوتا ہے، باہر والوں کو الزام دینا آسان ہے مگر اصل ظالم کہیں اور ہوتے ہیں۔
سماجی کارکنوں کا ردعمل
بلوچ سماجی کارکن سمی دین بلوچ نے کہا کہ اس واقعے نے دل توڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی عورت تعلیم یافتہ ہے اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو عزت دینی ہوگی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات ہوں اور قاتلوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہو۔
’غیرت‘ کے نام پر قتل – ایک قومی المیہ
انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق 2024 میں ملک بھر میں غیرت کے نام پر 346 افراد کو قتل کیا گیا، جن میں سندھ اور پنجاب سرفہرست رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف سخت قانون سازی نہیں بلکہ ثقافتی اور سماجی تبدیلی میں ہے۔ جب تک معاشرہ عورت کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرے گا، ایسے جرائم رکنے کے امکانات کم ہیں۔
