کراچی: بینکوں اور سائبر سکیورٹی ماہرین نے شہریوں کو اے ٹی ایم مشینوں پر بڑھتے ہوئے کیش ٹریپنگ فراڈ سے خبردار کیا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فراڈ میں جعلساز اے ٹی ایم کے کیش ڈسپنسر سلاٹ کو بلاک کر دیتے ہیں، جس سے ایسا لگتا ہے جیسے مشین نے کام کرنا بند کر دیا ہو۔ جیسے ہی صارف وہاں سے چلا جاتا ہے، ملزمان پھنسے ہوئے پیسے نکال لیتے ہیں۔
سائبر کرمنلز مخصوص آلات یا "گلو ٹریپس” استعمال کرتے ہیں جو اے ٹی ایم کیش سلاٹ کے اندر یا اس کے سامنے نصب کیے جاتے ہیں تاکہ رقم باہر نہ نکل سکے۔
یہ ٹریپس دو اقسام کے ہوتے ہیں — ٹائپ ون جو بظاہر نظر آتے ہیں لیکن اصل ڈسپنسر سے فرق کرنا مشکل ہوتا ہے، اور ٹائپ ٹو جو اے ٹی ایم کے اندر چھپے ہوتے ہیں اور صارفین کو ان کا علم نہیں ہوتا۔
ملزمان اکثر جعلی شٹر یا نقلی کیش ڈسپنسر بھی نصب کرتے ہیں تاکہ اصلی رقم پھنس جائے اور وہ بعد میں آسانی سے رقم اپنے قبضے میں لے سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری اے ٹی ایم استعمال کرنے سے پہلے کیش اور کارڈ سلاٹس کو چیک کریں، اگر کوئی غیر معمولی چیز یا ڈھیلا حصہ نظر آئے تو مشین استعمال نہ کریں۔
رقم نہ نکلنے کی صورت میں فوراً بینک سے رابطہ کریں اور اے ٹی ایم کے قریب ہی رہیں۔ پن کوڈ درج کرتے وقت کی پیڈ کو ڈھانپیں اور کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ بینکوں کو اپنی مشینوں پر اینٹی کیش ٹریپنگ ڈیوائسز نصب کرنی چاہئیں، مشینوں کو باقاعدگی سے اپ گریڈ کیا جائے اور عوامی آگاہی مہمات تیز کی جائیں۔
حکام نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے مجرم جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر رہے ہیں، ان کے فراڈ کے طریقے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے بینکوں اور صارفین دونوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
