اکتوبر 31، 2025
ویب ڈیسک
سہارا کے سنسان کنارے پر سائنسدانوں نے ایک حیران کن دریافت کی ہے لاکھوں سال پرانے پتھروں پر محفوظ بارش کے قطروں کے نشانات۔ یہ ننھے ننھے نقوش، جو چند ملی میٹر چوڑے ہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے ریگستان میں کبھی مون سون کی بارشیں ہوا کرتی تھیں۔
یہ دریافت جنوبی الجزائر کے ایک دورافتادہ علاقے میں ہوئی جہاں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور فرانس کے نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ (CNRS) کے محققین قدیم تہوں کا مطالعہ کر رہے تھے۔ انہی تہوں میں انہیں کیچڑ پر جمنے والے بارش کے قطروں کے نشانات ملے جو وقت کے ساتھ پتھر بن چکے ہیں۔
“یہ آسمان کی یاد جیسا ہے،” تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر لیلہ بنی یوسف نے کہا۔ “ہر چھوٹا نشان اس لمحے کو محفوظ کیے ہوئے ہے جب بارش نے اس زمین کو چھو وہ وقت جب یہ ریگستان زندگی سے لبریز تھا۔”
ماہرین نے جدید 3D اسکیننگ اور مائیکرو ڈرون امیجنگ کے ذریعے ان نشانات کا مطالعہ کیا اور معلوم کیا کہ یہ تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے بنے، جب شمالی افریقہ نم آلود اور موسمی جھیلوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ شواہد اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ اس خطے میں کبھی باقاعدہ مون سون کے چکر موجود تھے۔
یہ تحقیق نیچر جیو سائنس میں شائع ہوئی ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کے مدار میں تبدیلیوں اور ماحولیاتی عوامل نے اس زمانے میں افریقہ کے موسموں کو شدید طور پر متاثر کیا۔ بعد ازاں ارضیاتی تبدیلیوں اور عالمی درجہ حرارت میں کمی نے اس خطے کو خشک اور بنجر بنا دیا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے ان موسمی ادوار کو سمجھنے سے موجودہ دور کے موسمیاتی تغیرات کی پیش گوئی میں مدد مل سکتی ہے۔
ریسرچ ٹیم کے مطابق، جب ڈرون کیمرے نے اس مقام کی تصویریں لیں تو ایسا محسوس ہوا جیسے بارش ابھی تھمی ہو اور پھر کیچڑ خشک ہو گیا، وقت گزر گیا، لیکن نشان باقی رہ گئے۔
سہارا کی خاموش ریت نے گویا سرگوشی کی: “مجھے یاد ہے، کبھی یہاں بارش ہوتی تھی۔”
