ایتھنز: غزہ کی جانب جانے والے "صمود فلوٹیلا” کے منتظمین نے منگل کی رات اطلاع دی کہ متعدد ڈرونز نے یونان کے قریب ان کی امدادی کشتیوں کو نشانہ بنایا، جس سے دھماکے، رابطے کی بندش اور شرکاء میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا نے کہا کہ کئی کشتیوں پر "نامعلوم اشیاء” گرائی گئیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ کارکنان نے ان حملوں کو "نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کارروائیاں” قرار دیا لیکن اعلان کیا کہ وہ خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
جرمن انسانی حقوق کی کارکن یاسمین آکار نے بتایا کہ پانچ کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ انہوں نے زور دیا کہ فلوٹیلا صرف انسانی ہمدردی کی امداد لے کر جا رہی ہے اور "کسی قسم کا خطرہ” نہیں ہے۔ آن لائن جاری ویڈیوز میں دھماکے اور مبینہ ڈرون سرگرمی دیکھی جا سکتی ہیں۔ برازیلی کارکن تھیگو آویلا نے کہا کہ چار کشتیوں پر "ڈرونز نے دھماکہ خیز آلات پھینکے” جس کے بعد دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔
یہ فلوٹیلا، جو رواں ماہ کے آغاز میں بارسلونا سے روانہ ہوئی تھی، 51 کشتیوں پر مشتمل ہے اور اس وقت کریٹ کے قریب موجود ہے۔ اس کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کو توڑنا اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے دوران امدادی سامان پہنچانا ہے۔
قافلے میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔ یہ قافلہ پہلے بھی تیونس کے قریب مشتبہ ڈرون حملوں سے بچ چکا ہے۔ تاہم اسرائیل نے پیر کو دوبارہ واضح کیا تھا کہ وہ کشتیوں کو غزہ پہنچنے کی اجازت نہیں دے گا، جیسا کہ جون اور جولائی میں دو ایسی ہی کوششوں کو روکا گیا تھا۔
یہ حملے اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کو غزہ کی جنگ پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے حال ہی میں خطے کے کچھ حصوں میں قحط کا اعلان کیا ہے اور 16 ستمبر کو تفتیش کاروں نے اسرائیل پر "نسل کشی” کے الزامات عائد کیے تھے۔
