ایک نئی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ فضائی آلودگی نہ صرف جسمانی بیماریوں کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات ڈال سکتی ہے، خاص طور پر زائد العمر افراد میں۔
اس سے قبل کی گئی تحقیقات میں فضائی آلودگی کو دل، سانس، جگر، پھیپھڑوں، فالج اور کینسر جیسی سنگین بیماریوں سے جوڑا گیا تھا۔ طبی ماہرین کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے مختلف امراض میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
اب برطانیہ میں 2008 سے 2017 تک جاری رہنے والی ایک تحقیق میں ماہرین نے ملک کے مختلف علاقوں کی فضائی آلودگی کا جائزہ لے کر 11 ہزار سے زائد زائد العمر رضاکاروں پر تحقیق کی۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے دماغ کا وہ حصہ متاثر ہو رہا ہے جو یادداشت، گفتگو، فہم اور مسائل حل کرنے کے افعال انجام دیتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فضا میں موجود نہایت باریک مضر صحت ذرات انسان کے پھیپھڑوں کے ذریعے دماغ تک پہنچ کر نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ ذرات گاڑیوں، گھروں، دکانوں، فیکٹریوں اور لکڑی کے صنعتی استعمال سے خارج ہوتے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ فضائی آلودگی کے ذہنی صحت پر اثرات کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
