ممبئی انڈینز نے بدھ کی شام وانکھیڑے اسٹیڈیم میں سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی ٹیم میں چند اہم تبدیلیاں بھی کیں۔ ول جیکس کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا، جبکہ روہت شرما ایک بار پھر دستیاب نہیں تھے اور کوئنٹن ڈی کوک بھی میچ سے باہر رہے۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی غیر معمولی سمجھا گیا کیونکہ وانکھیڑے میں عموماً ٹیمیں ہدف کے تعاقب کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔ ESPNcricinfo کے مطابق اس میچ سے پہلے اس میدان پر مسلسل 21 آئی پی ایل مقابلوں میں کپتانوں نے پہلے فیلڈنگ کا انتخاب کیا تھا، لیکن ہاردک پانڈیا نے اس روایت سے ہٹ کر پہلے بیٹنگ چنی۔
ول جیکس کی شمولیت ممبئی کے لیے خاص توجہ کا مرکز رہی۔ یہ آئی پی ایل 2026 میں ان کا پہلا میچ تھا، اور ان کی آمد نے بیٹنگ لائن اپ میں جارحانہ انداز کا ایک نیا آپشن دیا۔ دوسری طرف ڈی کوک کے نہ کھیلنے کی وجہ سے ریان رکلٹن کو موقع ملا، اگرچہ ٹاس کے وقت ڈی کوک کی عدم دستیابی کی واضح وجہ سامنے نہیں آئی تھی۔
روہت شرما کی مسلسل غیر موجودگی البتہ سب سے بڑی خبر رہی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق وہ ہیمسٹرنگ کے مسئلے سے مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکے، اور ہاردک پانڈیا نے بھی اشارہ دیا تھا کہ ان کی واپسی میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ایسے مرحلے پر روہت کا باہر ہونا ممبئی کے لیے یقیناً بڑا دھچکا ہے، خاص طور پر جب ٹیم پہلے ہی دباؤ میں ہو۔
میچ سے قبل ممبئی انڈینز کی پوزیشن بھی خاصی نازک تھی۔ Cricbuzz کی رپورٹ کے مطابق ٹیم اپنے ابتدائی سات میں سے پانچ میچ ہار چکی تھی، اس لیے یہ مقابلہ ان کے لیے صرف ایک اور لیگ میچ نہیں بلکہ واپسی کا موقع بھی تھا۔ ایسے حالات میں پہلے بیٹنگ کا فیصلہ ایک حکمتِ عملی بھی تھا اور ایک واضح پیغام بھی کہ ممبئی دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ انداز اختیار کرنا چاہتی ہے۔
کم از کم ابتدائی طور پر یہ حکمتِ عملی کامیاب نظر آئی۔ Cricbuzz کی لائیو کوریج کے مطابق ممبئی 12.5 اوورز میں 161 رنز پر 2 وکٹیں حاصل کر چکی تھی، جبکہ ول جیکس نے 46 رنز کی اہم اننگز کھیل کر اپنی شمولیت کو فوری طور پر مؤثر ثابت کیا۔ یہ ابھی روہت کی فٹنس سے متعلق سوالات کا جواب نہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ ممبئی کی اس نئی ترکیب نے میچ میں جان ڈال دی۔
