کراچی — منگل کی صبح اے لیول ریاضی کے پرچے کے امتحان سے چند گھنٹے قبل سوالنامہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے شہر بھر کے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ امتحانی مراکز پہنچنے والے سینکڑوں طلبہ نے پرچہ آؤٹ ہونے کی اطلاعات پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے برٹش کونسل کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔
صبح سویرے ہی واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے گروپس میں پرچے کی تصاویر گردش کرنے لگیں۔ جب طلبہ امتحانی مراکز پہنچے تو وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ پرچہ لیک ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے پورے امتحان کے شفاف ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ایک امیدوار سارہ خان نے برٹش کونسل کے باہر احتجاج کے دوران کہا، "ہم نے مہینوں اس امتحان کے لیے تیاری کی۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ پرچہ پہلے ہی آن لائن موجود ہے تو آپ کی ساری محنت رائیگاں جاتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صرف ہمارا وقت نہیں، ہمارے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے۔”
کیمبرج اسیسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن (CAIE) کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ مقامی تعلیمی اداروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں شہر کے متعدد مراکز سے پرچہ لیک ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے کسی واضح ہدایت کے بغیر امتحان جاری رکھا گیا۔
پاکستان میں یہ پہلا موقع نہیں جب امتحانی نظام پر انگلیاں اٹھی ہیں۔ گزشتہ برس او لیول کے امتحانات کے دوران بھی اسی طرح کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد سے ڈیجیٹل سیکیورٹی اور پرچوں کی ترسیل کے نظام پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ نظام میں پرچوں کی تقسیم کا طریقہ کار انتہائی کمزور ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر بااثر عناصر باآسانی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔
طلبہ کے لیے یہ صرف ایک پرچے کا معاملہ نہیں بلکہ ان کے تعلیمی مستقبل کا سوال ہے۔ اے لیول کے یہ گریڈز ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے بنیاد بنتے ہیں۔ اگر امتحان دوبارہ لیا جاتا ہے یا نتائج منسوخ ہوتے ہیں تو طلبہ کو نہ صرف تعلیمی نقصان ہوگا بلکہ والدین کو رجسٹریشن فیس کی مد میں بھاری مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔
ایک پریشان حال والد نے برٹش کونسل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہمیں صرف معافی نہیں چاہیے، ہمیں شفافیت چاہیے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سیکیورٹی لیپس کیسے ہوا اور جو بچے اس بدعنوانی کا حصہ نہیں بنے، ان کے ساتھ انصاف کیسے کیا جائے گا۔”
ابھی تک کیمبرج اور برٹش کونسل کی خاموشی طلبہ کی بے چینی میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ جب تک حکام کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آتا، ہزاروں طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے گا۔
