ممبئی کے علاقے گوونڈی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد مشتبہ فوڈ پوائزننگ کے باعث ہلاک ہو گئے۔ متاثرہ خاندان نے رات کے کھانے میں بریانی اور تربوز کھایا تھا، جس کے بعد ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔
متاثرہ افراد میں 40 سالہ فیروز خان، ان کی اہلیہ اور دو بچے شامل ہیں۔ منگل کی رات کھانا کھانے کے کچھ ہی دیر بعد انہیں شدید قے اور پیٹ میں درد کی شکایت ہوئی۔ انہیں فوری طور پر راجا واڑی ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹرز نے طبی امداد کے دوران ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ خاندان کے دو دیگر افراد بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جن کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق خاندان نے بریانی قریبی ہوٹل سے منگوائی تھی۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مذکورہ ہوٹل کو سیل کر کے وہاں سے کھانے کے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
دیونار پولیس اسٹیشن کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ "ہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ موت کی حتمی وجہ سامنے آ سکے۔ فی الحال یہ مشتبہ فوڈ پوائزننگ کا کیس ہے، لیکن ہم گھر میں استعمال ہونے والے پانی یا دیگر اشیاء کے آلودہ ہونے کے امکان کو بھی رد نہیں کر سکتے۔”
اس واقعے نے گوونڈی جیسے گنجان آباد علاقے کے مکینوں کو خوفزدہ کر دیا ہے، جہاں سٹریٹ فوڈ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ مقامی محکمہ صحت نے علاقے کے دیگر ہوٹلوں اور اسٹالز کا معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ حفظان صحت کے اصولوں کی جانچ کی جا سکے۔
پولیس نے متاثرہ گھر کو سیل کر کے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ فرانزک رپورٹ اگلے 48 گھنٹوں میں متوقع ہے، جو یہ واضح کرے گی کہ یہ کسی ایک کھانے کے خراب ہونے کا واقعہ تھا یا خوراک کی فراہمی میں کسی بڑی غفلت کا نتیجہ۔
