ایک نئی تحقیق کے مطابق متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، حتیٰ کہ ان افراد میں بھی جن کے خاندان میں اس بیماری کی سابقہ تاریخ موجود ہو۔ محققین کا کہنا ہے کہ مناسب غذا دماغی صحت کو طویل عرصے تک بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
کون سی غذائیں مفید ہیں؟
ماہرین روزمرہ خوراک میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج، خشک میوہ جات، مچھلی اور صحت بخش چکنائیاں شامل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان غذاؤں میں موجود وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس دماغی خلیات کی حفاظت کرنے اور سوزش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
صحت مند عادات بھی ضروری ہیں
اگرچہ خاندانی جینیاتی عوامل ڈیمنشیا کے خطرے کو متاثر کر سکتے ہیں، لیکن متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور ذہنی مشقیں بھی دماغی صحت کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
نتیجہ
اگرچہ کوئی ایک غذا ڈیمنشیا سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، لیکن صحت بخش خوراک اور بہتر طرزِ زندگی اپنانے سے دماغی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور وقت کے ساتھ ذہنی کمزوری کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
