جگر کی پیوندکاری کے شعبے میں ایک چھوٹے مگر غیرمعمولی کلینیکل ٹرائل نے ماہرین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ نیچر کمیونیکیشنز میں 17 اپریل 2026 کو شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، تین مریض ایسے تھے جو تجرباتی علاج لینے کے بعد تین سال سے زیادہ عرصے تک مکمل طور پر اینٹی ریجیکشن ادویات کے بغیر رہے۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ پیوندکاری کے بعد دی جانے والی اینٹی ریجیکشن ادویات اگرچہ عضو کو بچانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں، مگر ان کے طویل استعمال سے انفیکشن، گردوں کو نقصان، ذیابیطس اور بعض اقسام کے کینسر سمیت کئی سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے محققین برسوں سے ایسے طریقے تلاش کر رہے ہیں جن سے جسم نئے عضو کو قبول کرے اور ادویات پر انحصار کم ہو۔
اس نئی تکنیک میں ڈونر سے حاصل کردہ ریگولیٹری ڈینڈرائٹک سیلز استعمال کیے گئے، جنہیں ddDCregs کہا جاتا ہے۔ یہ خلیات جگر عطیہ کرنے والے فرد کے خون کے سفید خلیات سے تیار کیے گئے اور پیوندکاری سے سات دن پہلے مریض کو دیے گئے۔ اس کے بعد مریضوں کو معمول کے مطابق کچھ عرصہ اینٹی ریجیکشن ادویات دی جاتی رہیں، اور تقریباً ایک سال بعد، بایوپسی اور دیگر طبی معائنے تسلی بخش آنے پر ادویات بتدریج کم کی گئیں۔
تحقیق میں ابتدا میں 15 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا، تاہم دو افراد کو علاج سے غیر متعلق وجوہات کی بنا پر حتمی تجزیے سے خارج کر دیا گیا، جس کے بعد 13 مریضوں کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 8 مریض ایسے تھے جنہیں ادویات ختم کرنے کے عمل کے لیے موزوں سمجھا گیا۔ ان آٹھ میں سے چار مریض مکمل طور پر ادویات چھوڑنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ تین مریض تحقیق کے اختتام تک بدستور ادویات کے بغیر رہے۔
تحقیق کے مطابق اس علاج کے ابتدائی حفاظتی نتائج بھی حوصلہ افزا رہے۔ محققین نے بتایا کہ ڈونر سیلز حاصل کرنے کا عمل قابل برداشت تھا، اور سیلز کی منتقلی کے بعد کسی فوری منفی ردعمل یا انفیوژن سے متعلق سنگین مسئلے کی اطلاع نہیں ملی۔ ایک سنگین واقعہ ضرور رپورٹ ہوا، لیکن وہ ایک مریض کی بعد ازاں ہونے والی حادثاتی سر کی چوٹ کے بعد موت تھی، جسے تحقیق کاروں نے علاج سے غیر متعلق قرار دیا۔
تاہم یہ کامیابی ہر مریض کو حاصل نہیں ہوئی۔ ادویات ختم کرنے کے اہل قرار دیے گئے آٹھ میں سے چار مریض اس مرحلے میں کامیاب نہ ہو سکے اور انہیں دوبارہ اپنی بنیادی اینٹی ریجیکشن دوا پر لانا پڑا۔ ایک اور مریض پہلے مکمل طور پر ادویات چھوڑنے میں کامیاب ہوا، مگر بعد میں مشتبہ مدافعتی سرگرمی اور ممکنہ ریجیکشن کی علامات کے بعد اسے دوبارہ دوا شروع کرانا پڑی۔
ماہرین اس پیش رفت کو اہم تو قرار دے رہے ہیں، لیکن وہ احتیاط بھی برت رہے ہیں۔ یہ ایک پہلا انسانی مرحلہ I/IIa ٹرائل تھا، جس کا بنیادی مقصد اس طریقہ علاج کی حفاظت اور قابلِ عمل ہونے کو جانچنا تھا، نہ کہ فوری طور پر اسے تمام مریضوں کے لیے معیاری علاج قرار دینا۔ اس کے علاوہ یہ تحقیق ایک ہی مرکز میں ہوئی، اس میں مریضوں کی تعداد کم تھی، اور یہ صرف کم خطرے والے living-donor liver transplant کے کیسز تک محدود تھی۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ روایتی حالات میں بالغ جگر ٹرانسپلانٹ مریضوں میں مکمل طور پر اینٹی ریجیکشن ادویات ختم کرنے کی کامیابی کی شرح عموماً 13 سے 16 فیصد کے درمیان دیکھی گئی ہے۔ اس پس منظر میں موجودہ نتائج کو ایک نمایاں پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ اسے ابھی ابتدائی مرحلے کی کامیابی ہی کہا جائے گا۔
مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے اس تحقیق کا پیغام امید افزا ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ٹرانسپلانٹ کروانے والے افراد اپنی ادویات خود سے کم یا بند کر دیں۔ فی الحال یہ ایک تجرباتی طریقہ ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید مستقبل میں کچھ مخصوص مریضوں میں جسم کے مدافعتی نظام کو اس طرح تربیت دینا ممکن ہو کہ وہ پیوند شدہ جگر کو کم دوا کے ساتھ قبول کر لے۔ یہی امکان اس تحقیق کو غیرمعمولی بناتا ہے۔
