کراچی: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسولین سمیت 80 اہم ادویات دستیاب نہیں، جس سے لاکھوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
پی ایم اے کے مطابق 25 ایسی ادویات ہیں جن کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ ان میں ذیابیطس، کینسر، امراضِ قلب اور نفسیاتی بیماریوں کے علاج کی دوائیں شامل ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ مریض پیچیدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں، انسولین کی کمی سے شوگر کنٹرول نہ ہونا، گردوں اور بینائی کے مسائل بڑھنا، اور پیوند کاری کے مریضوں میں خطرناک انفیکشن سامنے آ رہا ہے۔
پی ایم اے نے الزام لگایا کہ بلیک مارکیٹ اور حکومتی پالیسی کی ناکامی بحران کی بڑی وجہ ہیں، انسولین کی قیمت بلیک مارکیٹ میں تین گنا بڑھ چکی ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر نئی دوا قیمتوں کی پالیسی بنائی جائے، بلیک مارکیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے اور ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔
ڈریپ (ڈریگ ریگولیٹری اتھارٹی) کو بھی ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ وہ شفاف اور عملی اقدامات کرے۔
