پنجاب حکومت نے طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے نصاب میں غیر ضروری مواد اور متعدد غلطیوں سے متعلق شکایات موصول ہونے کے بعد گیارہویں جماعت کے نصاب میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ اقدام حال ہی میں نویں جماعت کے نصاب میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد اٹھایا گیا ہے، جو صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور تدریسی مشکلات کو دور کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔
پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بُک بورڈ (PCTB) نے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو گیارہویں جماعت کے نصاب کا جائزہ لیں گی، اس میں بہتری لائیں گی، اور مواد کو کم کر کے اسے زیادہ قابلِ فہم اور غلطیوں سے پاک بنائیں گی۔
حکام نے بتایا کہ نویں جماعت کے نصاب میں کمی سے متعلق ابتدائی سفارشات پہلے ہی حتمی شکل دے دی گئی ہیں، اور سرکاری نوٹیفکیشن نومبر کے پہلے ہفتے میں جاری ہونے کا امکان ہے۔
یہ تازہ نصابی اصلاحات حکومت کی اُس جاری کوشش کا حصہ ہیں جس کا مقصد تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ نصابی مواد طلبہ کی ذہنی استعداد اور جدید تعلیمی معیار سے ہم آہنگ ہو۔
