پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے اساتذہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ کورونا کے دوران اسکول بندش کے عرصے میں ملنے والا سفری الاؤنس (Conveyance Allowance) واپس کریں — اس فیصلے نے تعلیمی حلقوں اور اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
محکمہ تعلیم لاہور کی جانب سے جاری کردہ سرکاری ہدایات کے مطابق، تمام اسکول سربراہان کو فوری طور پر اساتذہ سے الاؤنس کی رقم جمع کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔ سرکلر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو سربراہان اس ہدایت پر عمل نہیں کریں گے، ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق، کورونا لاک ڈاؤن کے دوران جب اسکول بند تھے، اساتذہ کی تنخواہوں سے سفری الاؤنس منہا نہیں کیا گیا تھا کیونکہ اُس وقت محکمہ خزانہ نے اس حوالے سے کوئی کٹوتی نہیں کی تھی۔ اب حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم مکمل طور پر واپس لی جائے گی اور کسی کو استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔
اساتذہ نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ اور مالی طور پر نقصان دہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ حکم واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ چار سال پرانی ادائیگی واپس لینا غیر منطقی ہے، خاص طور پر اس وقت جب مہنگائی میں اضافہ اور تنخواہیں جمود کا شکار ہیں۔
ایک استاد نے کہا، “اتنے سال بعد الاؤنس واپس لینا ناانصافی ہے۔ اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں تھی، یہ رقم خود محکمے نے ادا کی تھی۔”
اساتذہ تنظیموں اور تعلیمی ماہرین نے بھی صوبائی حکومت سے اس حکم نامے پر نظرِ ثانی کی اپیل کی ہے، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہ فیصلہ پہلے ہی محدود مالی وسائل رکھنے والے سرکاری اساتذہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔
