بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران تین دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جو پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ واقعہ گزشتہ رات پیش آیا، جس کی تصدیق پولیس نے ہفتے کے روز اپنے جاری کردہ بیان میں کی۔
پولیس کے مطابق دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا — یہ وہ اصطلاح ہے جو ریاست کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسندوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ترجمان کے مطابق دہشتگردوں نے مزنگہ چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور بارودی مواد سے بھری رکشہ کے ذریعے حملہ کرنے آئے۔
پولیس اہلکاروں نے مشتبہ سرگرمی دیکھ کر رکشہ کو رکنے کا اشارہ دیا، تاہم دہشتگردوں نے رفتار بڑھا دی، جس پر پولیس نے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں رکشہ دھماکے سے پھٹ گیا اور تینوں دہشتگرد موقع پر ہلاک ہوگئے۔ پولیس اہلکار محفوظ رہے، البتہ قریبی گھروں کو معمولی نقصان پہنچا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) بنوں سجاد خان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سلیم عباس کلاچی نے اہلکاروں کی بہادری اور بروقت کارروائی کی تعریف کی اور اسے “فرض شناسی، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کی بہترین مثال” قرار دیا۔
ڈی آئی جی اور ڈی پی او نے چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد دینے کا بھی اعلان کیا۔
پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دہشتگردانہ سرگرمیوں کو ناکام بنانے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔
پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نومبر 2022 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت سے جنگ بندی ختم کرنے کے بعد سے ملک میں دہشتگرد حملوں میں شدت آئی ہے۔
گزشتہ دو روز قبل بھی پاک فوج نے بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں کے دوران 34 “بھارت نواز” دہشتگرد مارے گئے۔
