برسلز — یورپ میں ریکارڈ کی شدید ترین گرمی کی لہر جاری ہے، جس کے باعث ایشیا میں ایئر کنڈیشنر بنانے والی کمپنیوں کی مصنوعات کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یورپ کے متعدد ممالک میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے گھریلو صارفین، کاروباری اداروں اور سرکاری تنظیموں کو شدید گرمی سے بچنے کے لیے ایئر کنڈیشنرز خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔
صنعتی تجزیہ کاروں کے مطابق چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے ایئر کنڈیشنر ساز اداروں کو آرڈرز میں نمایاں اضافے کا فائدہ پہنچا ہے، کیونکہ یورپی صارفین طویل اور شدید گرمی سے نجات حاصل کرنے کے لیے کولنگ سسٹمز کی جانب تیزی سے راغب ہو رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی طلب نے فروخت میں اضافہ کیا ہے اور بڑی الیکٹرانکس و گھریلو آلات بنانے والی کمپنیوں کے لیے نئے کاروباری مواقع پیدا کیے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار آنے والی شدید گرمی کی لہریں ان علاقوں میں بھی صارفین کے رویوں کو تبدیل کر رہی ہیں جہاں پہلے ایئر کنڈیشننگ کو زیادہ ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے یورپ میں کولنگ ٹیکنالوجی کی طلب مستقبل میں مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
اگرچہ اس شدید گرمی نے عوامی صحت، توانائی کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کے لیے متعدد چیلنجز پیدا کیے ہیں، لیکن اس نے ایشیا کی ایئر کنڈیشنر صنعت کو مالی فائدہ بھی پہنچایا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات عالمی منڈیوں اور کاروباری سرگرمیوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔
