پشاور: خیبرپختونخوا میں فروخت ہونے والے بوتل بند پانی کے تقریباً چار میں سے دس برانڈز انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ قرار دیے گئے ہیں، جس سے عوامی صحت اور صارفین کی حفاظت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے پہلی بار صوبے بھر میں کی جانے والی ٹیسٹنگ مہم کے مطابق، 40.39 فیصد بوتل بند پانی کے نمونے معیار پر پورا نہ اتر سکے، جن میں خطرناک جراثیم کی موجودگی پائی گئی۔
نئی قائم ہونے والی صوبائی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اور ریسرچ سینٹر میں ٹیسٹ کیے گئے 156 نمونوں میں سے 61 میں کولفرم، فیكل کولفرم، ای۔کولائی اور پیسوڈوموناس ایروجنوسا جیسے جراثیم پائے گئے، جبکہ دو نمونوں میں نقصان دہ کیمیائی مادے موجود تھے۔ حکام کے مطابق یہ آلودگی صارفین کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 56 واٹر سورسز میں سے 29 بھی غیر معیاری نکلے۔ مجموعی طور پر صوبے میں یومیہ تیار ہونے والے 4 لاکھ 19 ہزار لیٹر پانی میں سے ایک لاکھ 17 ہزار لیٹر سے زائد غیر محفوظ قرار پایا۔
ڈائریکٹر جنرل وصیف سعید نے فوڈ منسٹر ظاہر شاہ ٹورو کو بریفنگ دی۔ نتائج سامنے آنے کے بعد اتھارٹی نے خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے، غیر محفوظ پلانٹس کی پیداوار معطل کر دی اور مارکیٹ سے آلودہ پانی واپس منگوانے کا حکم دیا۔ پلانٹس کو دوبارہ صرف اصلاحی اقدامات اور نئی منظوری کے بعد کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
فوڈ منسٹر ظاہر شاہ ٹورو نے اس ٹیسٹنگ مہم کو ’’صارفین کے حقوق کے لیے سنگِ میل‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ مہم وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایات پر شروع کی گئی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ناقص خوراک اور مشروبات کے خاتمے کے لیے سختی سے قانون نافذ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا
ہم صوبے بھر میں محفوظ خوراک یقینی بنائیں گے۔ مضر صحت اشیاء کو ختم کرکے نہ صرف عوام کو بیماریوں سے بچائیں گے بلکہ اسپتالوں کے بوجھ میں بھی کمی آئے گی۔
اتھارٹی نے آئندہ مرحلے میں واٹر فلٹریشن پلانٹس اور گھریلو پانی کے ذرائع کی ٹیسٹنگ بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ صارفین کے لیے مزید مضبوط حفاظتی اقدامات اور پروڈیوسرز کے لیے اعلیٰ معیار یقینی بنایا جا سکے۔
