اسلام آباد — دفترِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر آج شام 6 بجے سے اگلے 48 گھنٹے کے لیے عارضی جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس وقفے کا مقصد دونوں اطراف کے مابین مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پُرامن حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کرنا ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ افغان فورسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ جب تک کوئی جارحیت نہیں ہوتی، جنگ بندی کی پاسداری کی جائے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ دنوں میں پاک-افغان سرحد کے کچھ حصوں خصوصاً اسپن بولدک (بلوچستان) اور کرم سیکٹر (خیبرپختونخوا) پر افغان طالبان اور بعض خارجی تنظیموں کی جانب سے حملے ہوئے، جنہیں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں روکا۔ آئی ایس پی آر کی رپورٹ کے مطابق اسپن بولدک میں کیے گئے حملوں کے دوران 15–20 عسکریت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ کرم سیکٹر میں دشمن کی کئی چوکیوں اور بعض ٹینک کو نقصان پہنچا اور 25 تا 30 دہشت گرد ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پہلے بتایا تھا کہ اس وقت اسلام آباد اور کابل کے درمیان باضابطہ تعلقات منجمد کے درجے پر ہیں اور صورتِ حال کشیدہ ہے، جو کسی بھی وقت پھر بھڑک سکتی ہے۔
گزشتہ روز اور آج تک دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سرحدی جارحیت اور حملوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ممنوعہ گروپوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہیں، جبکہ افغان فریق نے پاکستان کی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
افغان طالبان کی درخواست پر ہونے والی یہ عارضی جنگ بندی کم از کم عارضی طور پر تناؤ کم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس دوران مذاکرات کے ذریعے تنازعہ کے دیرپا حل کی کوششیں ہوں گی، تاہم نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید بات چیت اور اعتماد سازی درکار ہوگی۔
