کینیڈین ماہرینِ طب نے ایک ایسی تحقیق پیش کی ہے جس نے طبّی دنیا کو حیران کر دیا ہے — ماہرین کے مطابق انسان کی آنکھیں، خاص طور پر ریٹینا، بڑھاپے اور دل کے امراض کے ابتدائی آثار ظاہر کر سکتی ہیں۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے “سائنس ایڈوانسز” (Science Advances) میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ریٹینا میں موجود خون کی باریک نالیوں (microvessels) کا تجزیہ جسمانی عمر، دل کے مسائل اور دورانِ خون کے نظام کی حالت کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
تحقیق کی تفصیل
تحقیق میں 74 ہزار سے زائد افراد کے ریٹینا اسکین، جینیاتی معلومات اور خون کے نمونوں کا مطالعہ کیا گیا۔ ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ جن افراد کی خون کی نالیاں کم شاخ دار اور سادہ ساخت رکھتی تھیں، ان میں دل کے امراض، جسمانی سوزش (inflammation) اور کم عمر حیاتیاتی عمر کے آثار زیادہ پائے گئے۔
مزید یہ کہ ماہرین نے کئی اہم پروٹینز کی نشاندہی بھی کی جو بڑھاپے اور قلبی امراض سے منسلک ہیں۔ ان پروٹینز کی سطح میں تبدیلیاں عمر اور بیماریوں کے خطرے کے ساتھ واضح تعلق رکھتی ہیں۔
ریٹینا: جسم کی اندرونی جھلک
تحقیق کے مطابق، آنکھ کی ریٹینا دراصل جسم کے دورانِ خون کے نظام کا ایک قدرتی اور غیر مداخلتی (non-invasive) منظر پیش کرتی ہے۔ اس میں ہونے والی تبدیلیاں جسم کے دیگر حصوں میں خون کی نالیوں کی صحت کا عکس دکھاتی ہیں۔
مستقبل کی راہیں
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ریٹینا اسکین کو ایک تیز، کم خرچ اور غیر پیچیدہ طریقہ بنایا جا سکتا ہے، جو دل کے امراض، فالج (stroke) اور ڈیمنشیا جیسے خطرات کی پیشگی نشاندہی کرے گا۔
یہ پیش رفت نہ صرف طبی تشخیص کو جدید بنائے گی بلکہ مستقبل میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے بھی ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
