پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو صوبائی کابینہ اپنی صوابدید پر تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے، یہ ہدایت اس وقت سامنے آئی جب سہیل آفریدی کو تیسری بار اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کے مطابق وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی منگل کے روز کابینہ کی تشکیل پر مشاورت کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے، تاہم عدالت کے احکامات کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔
بعد ازاں، عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خانم، جو پیر کے روز اپنے بھائی سے ملاقات کر چکی تھیں، نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان نے سہیل آفریدی کو ’کابینہ کی تشکیل کے لیے مکمل اختیار‘ دینے کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیرِاعلیٰ اپنی مرضی سے اور صوبے کی ضرورت کے مطابق ایک مختصر اور مؤثر ٹیم تشکیل دیں۔‘‘
خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی عدم تشکیل کے باعث حکومتی امور تعطل کا شکار ہیں، جبکہ کچھ قانون سازوں نے خبردار کیا کہ طویل تاخیر صوبے میں انتظامی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ان کا آئینی حق ہے کیونکہ انہیں عمران خان نے نامزد کیا ہے۔
عظمیٰ خانم نے مزید بتایا کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کرنے میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کے پیغامات پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا ہی پہنچائیں گے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
دوسری جانب، تحریکِ انصاف نے وفاقی حکومت سے غزہ میں پاکستانی فوج کی مبینہ تعیناتی سے متعلق خبروں پر وضاحت طلب کی ہے۔ پارٹی نے اسے ایک ’’انتہائی حساس قومی معاملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر فیصلہ صرف شفاف مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ، سیاسی قیادت اور عوام کو اعتماد میں لے۔
