نومبر 2، 2025
ویب ڈیسک
بھارتی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عقیدے اور مذہب کی آزادی آئینِ ہند کی بنیادی روح ہے، اور یہ آزادی ہمیشہ ضمیر کا معاملہ ہونی چاہیے، جبر کا نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مہاتما گاندھی کے اس قول کی یاد دلائی کہ "تمام مذاہب کی اصل ایک ہی ہے، فرق صرف راستوں میں ہے۔” عدالت کے مطابق آئین کا تحفظ دراصل اس مشترکہ اخلاقی بنیاد کا تحفظ ہے جو تمام انسانوں اور مذاہب کو جوڑتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آئین ہمیں ریاستی جبر ہی نہیں بلکہ اپنے تعصبات کے ظلم سے بھی بچاتا ہے۔ عدالت نے اس شور اور انتشار کے دور میں عقل اور انصاف کی آواز بلند کی ہے، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ایمان آزاد ہونا چاہیے، اور بقائے باہمی مقدس۔
یہ فیصلہ مذہبی ہم آہنگی کی جدوجہد کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی شروعات ہے—ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کی دعوت، جہاں عقیدہ ضمیر کی آواز ہو، زبردستی کا نتیجہ نہیں، اور جہاں تنوع اختلاف نہیں بلکہ رشتہ بنے۔
