چمن — افغانستان کی جانب سے جمعرات کے روز جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں جوابی کارروائی کی۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا آغاز افغان سائیڈ سے ہوا، تاہم پاکستانی فورسز نے صورتحال پر بروقت قابو پا لیا اور جنگ بندی برقرار رکھی۔ وزارت نے کابل کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد گزشتہ ماہ ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد طے پانے والی عارضی جنگ بندی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری، انٹیلی جنس اور سفارتی نمائندے شریک ہیں، جب کہ ثالثی کا کردار دوست ممالک ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین گزشتہ مذاکرات میں طے شدہ وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لے رہے ہیں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے ایک نیا نظام وضع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
اسلام آباد کے حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا — افغان سرزمین پاکستان کے خلاف کسی بھی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
