جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں کے ایک چھوٹے سے قصبے علی پور کی خاموش گلیوں میں ایک بڑی تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ وہیں، جہاں مٹی کے گھر اور صحنوں میں کبھی خاموشی بسی رہتی تھی، اب عورتوں کے ہاتھوں میں امید کی چمک ہے — وہ عورتیں جو کبھی اپنی زندگی کے فیصلے خود نہیں کر پاتی تھیں، آج اپنے ہاتھوں سے اپنی تقدیر تراش رہی ہیں۔
یہ سب ممکن ہوا ہے ایک غیر منافع بخش مگر پُرعزم منصوبے — “میڈ اِن علی پور” (Made in Alipur) — کے ذریعے، جو دیہی خواتین کو ہنر، روزگار اور خود اعتمادی فراہم کر رہا ہے۔
ایک خواب سے ایک تحریک تک
یہ سب 2022 میں شروع ہوا جب آمنہ کنجو — جو خود علی پور سے تعلق رکھتی ہیں — نے محسوس کیا کہ ان کے علاقے کی خواتین میں بے پناہ صلاحیت ہے مگر مواقع کا فقدان ہے۔ وہ چاہتی تھیں کہ یہ خواتین صرف کام نہ کریں بلکہ اپنے ہنر کی مالکہ بنیں۔
یوں “میڈ اِن علی پور” کی بنیاد رکھی گئی۔
آمنہ کا کہنا ہے:
“یہ کوئی فیکٹری نہیں ہے۔ یہاں خواتین خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کب اور کیسے کام کرنا ہے۔ ہم ان پر حکم نہیں چلاتے، ہم انہیں اختیار دیتے ہیں۔”
ایک ٹانکے سے خود مختاری تک
یہ منصوبہ صرف گیارہ خواتین سے شروع ہوا تھا، مگر آج اس میں تین سو سے زائد خواتین شامل ہیں۔
انہیں ہاتھ کی کڑھائی، مٹی کے برتن بنانا، سلائی، جیولری ڈیزائننگ اور جوتے تیار کرنے کا ہنر سکھایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی انہیں کاروباری مہارت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور آن لائن فروخت کے بنیادی اصول بھی سکھائے جاتے ہیں۔
ان کے تیار کردہ کپڑے اور مصنوعات اب لاہور اور کراچی کے معروف برانڈز جیسے Lama، BTW اور Beygum Bano کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں۔
ہر پروڈکٹ پر ایک لائن درج ہوتی ہے:
“Made by hand and made with heart” — ہاتھوں سے بنی، دل سے سجی۔
“اب میں محفوظ اور پُرامید ہوں”
شریک خواتین کی زندگیوں میں تبدیلی نمایاں ہے۔
ایک کاریگر، فیض بی بی، بتاتی ہیں:
“پہلے میرے پاس گھر چلانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اب سلائی اور کڑھائی سے اتنا کما لیتی ہوں کہ گھر کے اخراجات پورے ہو جاتے ہیں۔ سکون ہے، اطمینان ہے۔”
ایک اور خاتون، طاہرہ، کہتی ہیں:
“یہ ادارہ صرف ہنر نہیں سکھاتا، یہ شعور بھی دیتا ہے۔ میں نے یہاں جانا کہ تعلیم عورت کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی مرد کے لیے۔”
ہنر سے آگے — شعور کی سمت
“میڈ اِن علی پور” کی اصل طاقت یہ ہے کہ یہ صرف ہنر نہیں، بلکہ خود آگاہی اور سماجی شعور بھی پیدا کرتا ہے۔
یہ ادارہ گھریلو تشدد، خواتین کے حقوق، صحت، اور تعلیم جیسے موضوعات پر آگاہی سیشنز بھی منعقد کرتا ہے۔
آمنہ کنجو کے مطابق:
“یہ خواتین صرف کڑھائی نہیں کر رہیں، یہ اپنی آواز بنا رہی ہیں، اپنے خواب بُن رہی ہیں، اپنے فیصلے خود کر رہی ہیں۔”
اور یہی تبدیلی اب پورے گاؤں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
شوہر اپنی بیویوں کے کام کو عزت دینے لگے ہیں، لڑکیاں اسکول میں زیادہ دیر تک پڑھ رہی ہیں، اور خاندان آہستہ آہستہ خود انحصاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
چیلنجز اور آگے کا سفر
اس سفر میں مشکلات بھی کم نہیں۔
بجلی کی کمی، پسماندہ انفراسٹرکچر، اور محدود مارکیٹ تک رسائی جیسے مسائل روز کا چیلنج ہیں۔
سستا، مشینی مال ان کے ہنر سے بنی چیزوں کا مقابلہ کرتا ہے، جس سے منصفانہ قیمت برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
لیکن آمنہ اور ان کی ٹیم پُرعزم ہیں۔
وہ اب ایک آن لائن مارکیٹ پلیس بنا رہی ہیں تاکہ ان خواتین کے ہاتھوں کا بنا ہوا کام عالمی سطح پر پہنچ سکے۔
آمنہ کہتی ہیں:
“ہر ٹانکہ ایک کہانی سناتا ہے۔ ہم بس چاہتے ہیں دنیا وہ کہانی سنے۔”
“دل سے سجی ہوئی زندگی”
علی پور کی خواتین اپنے کام کو “نوکری” نہیں کہتیں، بلکہ “عزت کا کام” کہتی ہیں۔
اور شاید یہی اس منصوبے کی اصل روح ہے — “ہاتھوں سے بنی، دل سے سجی”۔
کیونکہ آخر میں یہ صرف دستکاری نہیں،
یہ عورتوں کے اعتماد، عزت اور مستقبل کی تعمیر کی کہانی ہے۔
