ویب ڈیسک
راجستان پولیس نے نئے انسدادِ تبدیلی مذہب قانون کے تحت پہلا مقدمہ کوٹا میں دو مسیحی پادریوں کے خلاف درج کیا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ان پادریوں نے 4 سے 6 نومبر تک بیری شیبا چرچ میں ہونے والے ’اسپرچوئل ستسنگ‘ کے دوران لوگوں کو لالچ دے کر مذہب تبدیل کرایا اور بپتسمہ دیا۔
ایف آئی آر جمعرات 20 نومبر کی رات وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے مقامی عہدیداروں کی شکایت پر درج کی گئی۔ پادری چندی ورگھیز (نئی دہلی) اور پادری ارون جان (کوٹا) کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق دونوں پادریوں نے ہندو برادری کے خلاف توہین آمیز remarks دیے اور راجستھان حکومت کو “شیطان کی سلطنت” قرار دیا۔
پولیس نے سوشل میڈیا ویڈیوز اور لائیو اسٹریم کلپس حاصل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں مبینہ طور پر بپتسمہ اور مذہبی تبدیلی سے متعلق تقاریر شامل ہیں۔ نوجوانوں نے اسٹیج سے اعلان کیا کہ وہ بپتسمہ لے چکے ہیں اور مسیحیت قبول کر چکے ہیں، جبکہ دوسروں کو بھی مذہب اختیار کرنے کی دعوت دی۔
پادری ارون جان نے دی ہندو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انہیں تین دن کے اندر جواب جمع کرانے کا کہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پروگرام میں کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہوئی اور اس کی تمام ویڈیوز پہلے ہی عوام کے سامنے موجود ہیں۔
