ایسا اکثر کہا جاتا ہے ہر رات 7 سے 8 گھنٹے کی نیند ضروری ہوتی ہے۔
مگر حالیہ برسوں میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن میں بتایا گیا کہ سونے اور جاگنے کے وقت کا تسلسل صحت کے لیے نیند کے دورانیے سے زیادہ اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ اگر آپ کے سونے اور جاگنے کا کوئی وقت مقرر نہیں، تو یہ عادت امراض قلب کا شکار بناسکتی ہے۔
جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں 45 سے 84 سال کی عمر کے 2 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
7 دنوں کے لیے ان افراد کو ایک ڈیوائس پہنا کر نیند کی عادات کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا اور پھر دل کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے ان افراد کی دل کی شریانوں میں مواد کے اجتماع، مواد کی مقدار اور بلڈ پریشر کی سطح جیسے عوامل کی جانچ پڑتال کی۔ بعد ازاں نیند کی عادات اور دل کی صحت کے ڈیٹا کا موازنہ کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سونے اور جاگنے کے معمولات کا تسلسل نہ ہونے سے دل کی شریانیں سکڑنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اس سے بتدریج شریانوں میں چربیلا مواد جمع ہونے لگتا ہے اور ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ ایک ہفتے میں سونے کے وقت میں 2 گھنٹے یا اس سے زائد کا فرق امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ سونے اور جاگنے کا یکساں وقت نیند کے دورانیے جتنا ہی اہم ہے۔ یہ پہلی تحقیق نہیں جس میں سونے جاگنے کے وقت میں تسلسل نہ ہونے کو امراض سے منسلک کیا گیا ہے۔
اس سے قبل 2018 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سونے جاگنے کا یکساں وقت نہ ہونے سے موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور ہارٹ اٹیک جیسے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اسی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایسے افراد کی جانب سے زیادہ تناؤ اور ڈپریشن کو بھی رپورٹ کیا جاتا ہے۔ اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ ہر ہفتے سونے کے وقت میں فرق 2 گھنٹے سے کم ہو۔
یعنی اگر آپ عام دنوں میں رات 10 بجے سونے کے لیے بستر پر جاتے ہیں تو ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر آدھی رات کے بعد نہیں جاگنا چاہیے۔
سونے جاگنے کے وقت میں تسلسل کو مکمل طور پر مثالی بنانا تو ممکن نہیں مگر ایسا کرنے کی کوشش امراض قلب سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
