دسمبر 13، 2025
ویب ڈیسک
دی جکارتا پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق جکارتا کے قریب سیترہ ماجا سٹی میں ایک نئی کثیر المذاہب پروٹسٹنٹ چرچ کی تعمیر انڈونیشیا میں مذہبی رواداری کی ایک اہم علامت بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ چرچ مقامی حکومت کی منظوری سے تعمیر ہوا، جو 2006 کے مذہبی ہم آہنگی کے قانون کے بعد ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مضمون میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ قانون کے تحت مقامی مذہبی اکثریت کو اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی اجازت روکنے کا اختیار حاصل ہے، جس کے باعث گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ہزار سے زائد چرچ بند یا سیل کیے جا چکے ہیں۔ لیبک ریجنسی، جہاں یہ نیا چرچ قائم ہوا، طویل عرصے سے مذہبی عدم برداشت کا مرکز رہا ہے۔
مصنف نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2022 میں علاقے میں کرسمس کی تقریبات پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی، جبکہ ضلع میں 100 سے زائد مساجد ہونے کے باوجود دیگر مذاہب کی کوئی سرکاری عبادت گاہ موجود نہیں تھی۔
مضمون کے مطابق نئی چرچ ایک مثبت مثال قائم کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امتیازی قوانین میں ترمیم یا انہیں ختم کرے تاکہ مذہبی اقلیتوں کو مساوی حقوق اور پائیدار مذہبی آزادی فراہم کی جا سکے۔
